انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 381

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جماعت احمدیہ کے خلاف تازہ فتنہ میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کا حصہ ( تقریر فرموده ۲۶۔جون ۱۹۳۷ ء بمقام مسجد اقصی قادیان ) تشهد ، تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ النساء کی آیات ۵۹ تا۶۶ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مؤمن کی پیدائش ایک منفرد پیدائش نہیں ہوتی بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ایک زنجیر کی کڑی بنایا ہے۔ایک کا فرجب اپنے وجود کو دیکھتا ہے تو اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ فلاں کام کا نتیجہ میرے حق میں کیا نکلے گا لیکن مؤمن اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس کام کا نتیجہ اس زنجیر کے حق میں کیا ہوگا جس کی وہ ایک کڑی ہے۔بے شک ایک لوہے کی کڑی اگر مضبوط سے مضبوط اور اعلیٰ سے اعلیٰ ہو تو بھی دو چار یا پانچ روپیہ میں مل جائے گی لیکن اگر وہ اس زنجیر کا ایک حصہ ہے جو شاہی خزانہ کے صندوق پر بندھی ہوئی ہے تو اُس کی قیمت بہت بڑھ جائے گی اور اسی نسبت سے اس کی کڑیوں کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔اگر تو وہ ایک الگ کڑی ہوتی تو اس کے کٹ جانے سے اول تو چند آنوں کا نہیں تو دو چار یا پانچ روپیہ کا نقصان ہوتا لیکن اس زنجیر کا حصہ ہونے کی صورت میں جو خزانہ کے بکس کے ارد گرد لپٹی ہے ، ٹوٹ جانے کی صورت میں کروڑوں روپیہ کا نقصان ہوگا اس لئے دونوں کڑیوں کی ذمہ داری بالکل اور ہے۔دونوں کی اہمیت ایک نہیں۔الگ الگ ہونے کی صورت میں ان کی قیمت ایک ہے مگر ز نجیر میں داخل ہو کر ایک کی حیثیت بالکل بدل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ تم خدا کی فوج کے سپاہی ہو اور اگر انفرادی طور پر تمہارے اندر خلل واقع ہوگا تو اس سے ساری فوج میں خلل آئے گا۔دنیا میں ہزار ہا ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک زبردست فوج