انوارالعلوم (جلد 14) — Page 369
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) روو کے پاس ہے بَلْ أَنتُم قَوْمٌ تُفتَنُونَ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم ہو جسے آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔پھر تین رسولوں کا سورۃ یسن میں ذکر کر کے فرماتا ہے قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرُنَا بِكُمْ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ - قَالُوْا طَائِرُكُمْ مَّعَكُمْ أَئِنْ ذُكِرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ ٢٨ یعنی جب وہ مصلح اور رسول ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری وجہ سے بڑی تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں اور تمہارا آنا ہم منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔انہوں نے کہا تمہارا پرندہ تو تمہارے ساتھ ہے یعنی تم جہاں بھی ہو گے تمہارے اعمال بد کا نتیجہ تم ہی کو تباہ کرے گا ہمیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اور کیا تم یہ بات اس لئے کہتے ہو کہ ہم تمہیں اچھے کام یاد دلاتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ تم حد سے گزرنے والی قوم ہو اس لئے تم اپنے اعمال کی ضرور سزا پاؤ گے۔اس جگہ بھی طائر کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قوت عملیہ اور نتیجہ عمل کے معنوں میں ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس لفظ کے استعمال کی حقیقت کیا ہے اور اس کی انسان کے ساتھ نسبت کیا ہے؟ سو اس کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں سورۃ بنی اسرائیل میں ایک آیت نظر آتی ہے جو ہمیں اس مضمون کے بہت زیادہ قریب کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكُلَّ إِنْسَانِ الْزَمُنهُ طَئِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كِتَبايَّلْقَهُ مَنْشُورًا - اِقْرَأْ كِتَبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا۔مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ۲۹ یعنی ہم نے ہر انسان کے ساتھ ایک پرندہ اُس کی گردن کے نیچے باندھا ہوا ہے اور ہم قیامت کے دن اُس کے اعمال نامہ کو اُس کے سامنے لائیں گے جسے وہ بالکل گھلا ہوا پائے گا اور اُسے کہا جائے گا اسے پڑھ کر دیکھ لے اور اپنی نیکی بدی کا آپ حساب کر لے کیونکہ آج تیر انفس ہی تیرا حساب لینے کیلئے کافی ہے۔اور یا درکھو کہ جو ہدایت پاتا ہے وہ اپنے لئے پاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے اس کا نقصان بھی اُسی کو ہوتا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا اور ہم اُس وقت تک لوگوں کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ اُن کی طرف کوئی رسول مبعوث نہ کرلیں۔یہاں قرآن نے طائر کے نہایت لطیف معنی کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ہر انسان کی گردن