انوارالعلوم (جلد 14) — Page 368
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) استعمال ، كُلِّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَ تَسْبيحَهُ کا استعمال اور وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ کا ذکر بتا رہا ہے کہ اس میں انسانوں کا ہی ذکر ہے خصوصاً اُن مؤمنوں کا جو باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں۔مومنوں کو طیر کیوں کہا گیا ؟ اب سوال یہ ہے کہ اگر طلبیر سے مراد اس جگہ مومن ہی ہیں تو پھر انہیں طیر کیوں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی اعمال کا جو نتیجہ ہوا سے عربی میں طائر کہتے ہیں اور اس کا ذکر قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی آتا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے۔فَاذَا جَاءَ تُهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هَذِهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَمَنْ مَّعَهُ أَلَا إِنَّمَا طَئِرُ هُمْ عِندَ اللهِ وَلَكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۴۴ یعنی جب اُن کو کوئی خوشی نا ہے اور ان پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو کہتے ہیں یہ ہمارا حق ہے اور جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں موسیٰ اور اُس کے ساتھیوں کی نحوست کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَا اِنَّمَا طَئِرُ هُمْ عِندَ اللہ سنو! اُن کا پرندہ یعنی اُن کے وہ اعمال جنہیں وہ بجالاتے ہیں خدا کے پاس موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم پر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے عذاب آیا اور خدا کہتا ہے کہ ان کا پرندہ ہمارے پاس موجود ہے۔بظاہر اس کا آپس میں چونکہ کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا اس لئے لغت والے لکھتے ہیں کہ طائر کے ایک معنی انسانی اعمال کے بھی ہیں۔چنانچہ امام راغب لکھتے ہیں۔وَكُلُّ إِنْسَانِ اَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ کے معنی ہیں عمله الَّذِى طَارَعَنْهُ مِنْ خَيْرٍ وَّ شَرٍ ۲۵ یعنی اس جگہ طائر سے مراد ہراچھا یا بر اعمل ہے جو انسان سے سرزد ہوتا اور پھر اُڑ کر نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔اقرب میں بھی طائر کے ایک معنی عمله الَّذِى قلده وَ طَارَ عَنْهُ مِنْ خَيْرٍ اَوْ شَرّر اس کے لکھے ہیں یعنی انسانی عمل خواہ اچھا ہو یا بُرا۔پھر فرماتا ہے قَالُوا اطَّيَّرُ نَابِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ بَلْ أَنْتُمُ قَوْمٌ تُفتَنُونَ ، جب نمود کے پاس حضرت صالح علیہ السلام آئے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تیرے اور تیرے ساتھیوں کے بُرے اعمال کی نحوست کی وجہ سے ہم تباہ ہوئے ہیں جیسے آجکل کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی نحوست کی وجہ سے ہی طاعون اور دوسری وبائیں آئیں۔فرماتا ہے ان کے نبی نے ان کو جواب دیا کہ طائِرُكُم عِندَ الله تمہارا طائر تو الله