انوارالعلوم (جلد 14) — Page xl
انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۴ تعارف کتب ایک نہایت روشن نشان قرار دیا۔ شیخ عبدالرحمن مصری صاحب کا شمار معروف احمدی احباب میں ہوتا تھا لیکن ۱۹۳۴ء میں خلافت کے متعلق انہیں ابتلاء پیش آیا جو بالآخر ان کی ہلاکت کا موجب ہوا ۔ شروع میں ان کی سرگرمیاں مخفی رہیں ۔ ۱۹۳۷ ء : ء میں ان کا نفاق ظاہر ہوا اور کھلم کھلا کھلا انہوں نے محاذ آرائی اور بہتان طرازی شروع کی ۔ ان کے ساتھ دوسرے منافق ، مرتد ، پیغامی ، احراری اور دیگر مخالف بھی مل گئے اس طرح یہ ایک بڑا فتنہ بن گیا۔ حضور نے فرمایا مصری صاحب کے ارتداد کے متعلق ہمیں پہلے سے خبر دی گئی تھی ۔ پس جہاں یہ ابتلاء مصری صاحب کی ہلاکت کا موجب بنا وہاں ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوا۔ حضور نے اپنے چار رؤیا سنائے اور فرمایا وہ غور کریں کہ بقول ان کے وہ بزرگ اور احمدیت کے حقیقی خادم ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے ارتداد کی خدا نے مجھے خبر دی انہیں خبر نہ دی۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ ان کے ایمان کی خرابی کی تو خدا نے مجھے اطلاع دے دی مگر میرے ایمان کے خراب ہونے کی انہیں کوئی اطلاع نہ دی ۔ حضور نے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں اس فتنہ کا تفصیلی ذکر موجود چند الہامات کا ذکر کر کے تفصیل سے بتایا کہ ان میں بیان کردہ پیشگوئی میاں مصری صاحب کے بر پا کردہ فتنہ کے حالات پر پوری چسپاں ہوتی ہے اور ہمارے لئے تھا۔ حضور نے از دیا دایمان کا موجب ہے ۔ آخر میں حضور نے پُر شوکت الفاظ میں فرمایا :۔ دو یہ فتنہ خدا تعالیٰ کا ایک زبردست نشان ہے جو ظاہر ہوا اور جس نے میری صداقت کو آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر کر دیا خدا تعالیٰ کے نشانات مختلف اقسام کے ہوا کرتے ہیں اس کا کوئی نشان جلالی ہوتا ہے کوئی قہری ۔ میں جو اس وقت تمہارے سامنے کھڑا ہوں خدا تعالیٰ کا ایک جلالی نشان ہوں اور مصری پارٹی اس کا ایک قہری نشان ہے ۔ پس خدا تعالیٰ کے ان نشانات سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنی اصلاح پر زور دو اور نیکی میں ترقی کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط کرتے چلے جاؤ تا کہ مخالف جب کبھی تم پر حملہ کرے وہ تمہیں خدا تعالیٰ کی گود میں پائے ۔“