انوارالعلوم (جلد 14) — Page 354
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) صاف طور پر فرماتا ہے کہ شریعت کو اُٹھانے والا صرف انسان ہے اور کوئی شریعت کا مکلف نہیں ۔ پھر جب کہ انسان کو ہی خدا نے شریعت دی تو سوال یہ ہے کہ اگر جن غیر از انسان ہیں تو وہ کہاں سے نکل آئے اور انہوں نے رسول کا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر اپنے ا اپنے ایمان کا کیوں اظہار کیا ؟ اگر یہ تسلیم ؟ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ غیر از انسان تھے تو خدا خدا تعالیٰ کا کلام باطل ٹھہرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ انسان کے سوا سب مخلوق نے اس شریعت پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور جب کہ قرآن سے یہ ثابت ہے کہ جن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ یہاں جن سے مراد جن الانس ہی ہیں ۔ ایسی مخلوق مراد نہیں جو انسانوں کے علاوہ ہو اور نہ میں ایسے جنوں کا قائل ہوں جو انسانوں سے آ کر چمٹ جاتے ہیں ۔ میرے سامنے ہی اس وقت ایک دوست بیٹھے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں لکھا کہ میری ہمشیرہ کے پاس جن آتے ہیں اور وہ آپ پر ایمان لانے کیلئے تیار ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں لکھا کہ آپ جنوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ ایک عورت کو کیوں ستاتے ہوا گرستانا ہی ہے تو مولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ کو جا کر ستائیں ایک غریب عورت کو تنگ کرنے سے کیا فائدہ؟ بیشک کئی ایسے لوگ ہونگے جو انگریزی تعلیم کے ماتحت پہلے ہی اس امر کے قائل ہوں کہ ایسے جنات کا کوئی وجود نہیں لیکن مومن کے سامنے یہ سوال نہیں ہوتا کہ اُس کی عقل کیا کہتی ہے بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے۔ اگر قرآن کہتا ہے کہ جن موجود ہیں تو ہم کہیں گے آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا اور اگر قرآن سے ثابت ہو کہ انسانوں کے علاوہ جن کوئی مخلوق نہیں تو پھر ہمیں یہی بات ماننی پڑے گی ۔ اصل قو متکبر قوموں اور امراء کو بھی جن کہا جاتا ہے اصل بات یہ ہے کہ بعض تو میں بڑی متکبر ہوتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا اور بلند مرتبہ بجھتی ہیں۔ ایسی قوموں کے بڑے بڑے صنادید کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے دروازے پر لے آتا ہے اس لئے یہ لوگ جن کہلاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے ۔ ایک نہایت جاہل شخص یہاں ہوا کرتا تھا۔ پیرا اُس کا نام تھا۔ اُسے دو چار آنے کے پیسے اگر کوئی شخص دے دیتا تو وہ دال میں مٹی کے تیل کی آدھی بوتل ڈال کر کھا جاتا۔ دین کی معمولی معمولی باتوں سے بھی اتنا نا واقف تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تیرا مذہب کیا ہے؟ وہ اُس وقت تو خاموش رہا مگر دوسرے تیسرے