انوارالعلوم (جلد 14) — Page 339
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) ایک حقیقت ہے اور ایک استعارہ۔وَمَايَذَّكَّرُ الَّا أُولُو الأَلْبَابِ- مگر یہ فائدہ عقلمند لوگ ہی اُٹھاتے ہیں۔اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں حضرت مسیح کا معجزہ احیائے موتی مگر ایک موٹی مثال احیائے موتی کی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مُردے زندہ کیا کرتے تھے اور دوسری طرف قرآن میں ہی لکھا ہے کہ مُردے کی روح اس جہان میں واپس نہیں آتی۔اب اگر ہم مردوں کو زندہ کرنے سے حقیقی مُردوں کا احیاء مُراد لیں تو ان میں سے ایک آیت کو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا ماننا پڑتا ہے۔لیکن اگر مُردوں سے روحانی مُردے مُراد لیں تو دونوں آیتیں سچی ہو جاتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ مُردے زندہ کرو اور دوسری طرف کہہ دیا کہ مُردے واپس نہیں آتے۔اس طرح جو استعارہ کا فائدہ تھا وہ بھی حاصل ہو گیا اور جو نقصان تھا وہ بھی دُور ہو گیا۔احیائے موتی کے الفاظ استعمال کرنے سے مضمون میں جو وسعت پیدا کرنا مد نظر تھا وہ وسعت بھی پیدا ہو گئی اور جو خطرہ تھا کہ جاہل مسلمان انہیں خدا قرار نہ دے لیں اسے بھی دُور کر دیا۔مجاز اور استعارہ کے بارہ میں ان معنوں کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے رسول کریم ﷺ کا ارشاد دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ الله صلى الله نے کچھ لوگوں کے متعلق سنا کہ وہ محکمات و متشابہات کے بارہ میں جھگڑتے اور استعارہ اور حقیقت میں فرق نہ سمجھتے ہوئے قابلِ اعتراض باتیں کرتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی کتاب اس لئے اُتری ہے کہ اس کی ہر آیت دوسری کی تصدیق کرے۔پس جو آیت دوسری آیت کی تصدیق نہ کرے اس کے معنی بدلنے چاہئیں اور دونوں آیات کے مضمون میں مطابقت پیدا کرنی چاہئے۔پس کبھی قرآن کے وہ معنی نہ کرو جو اس کی کسی دوسری آیت کو جھٹلاتے ہوں۔اگر مطلب سمجھ میں نہ آئے تو جانے دو اور کسی عالم قرآن سے دریافت کرو وہ تمہیں اس کا مطلب بتا دے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتا دیا کہ قرآن کریم کی آیات آپس میں مخالف نہیں اگر استعارہ سمجھ میں آ جائے تو اُسے محکم آیات کے مطابق کرو اور اگر سمجھ میں نہ