انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 334

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) استعاروں کے بغیر بعض مضامین ادا ہی نہیں ہو سکتے حقیقت یہ ہے کہ استعارہ کے بیچ استعمال کے بغیر مضمون صحیح طور پر ادا ہی نہیں ہوسکتا۔مثلاً عام طور پر جب کسی شخص سے کوئی حماقت کا کام سرزد ہو تو اُسے گدھا کہہ دیا جاتا ہے۔یا کوئی بہادر شخص ہو تو اُس کے متعلق ہم شیر کا لفظ استعمال کر دیتے ہیں۔اب اگر ہم شیر کا لفظ استعمال نہ کریں اور خالی بہادر کہہ دیں تو جو شخص استعارہ کو سمجھنے کی طاقت رکھتا ہے وہ بہادر کے لفظ سے کبھی وہ مفہوم نہیں سمجھ سکتا جو شیر کے لفظ سے سمجھ سکتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی استعارہ غلط استعمال کر دے۔مثلاً گدھا ہے گدھا ہمیشہ بے موقع کام کرنے والا ہوتا ہے۔راہ چلتے ہوئے باقی جانوروں کو ہٹاؤ تو وہ ایک طرف ہو جائیں گے مگر گدھے کو ہٹاؤ تو وہ ٹیڑھا کھڑا ہو جائے گا اور رستہ روک لے گا۔اب اگر ہم کسی کو بیوقوف کہیں تو اس بیوقوف کے لفظ سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ بے موقع کام کرتا ہے لیکن گدھے کا لفظ استعمال کرنے سے فوراًدوسرا شخص سمجھ جائے گا کہ یہ بے موقع کام کرتا ہے۔اسی طرح گدھے سے بوجھ اُٹھانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اسی وجہ سے علمائے یہود کی مذمت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔اب جو لوگ اس نکتہ کو سمجھتے ہیں کہ کسی کو گدھا کہنے سے ایک مقصد اس امر کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ وہ بد عمل ہے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ جسے گدھا کہا گیا ہے وہ نہ صرف بے موقع کام کرتا ہے بلکہ بے عمل بھی ہے۔لیکن خالی احمق یا بیوقوف کا لفظ کہنے سے یہ مضمون ادا نہیں ہوتا۔اسی طرح جو مضمون کسی کو شیر کہنے سے ادا ہوتا ہے وہ خالی بہادر کہنے سے ادا نہیں ہوتا۔کیونکہ شیر کی خوبی یہ ہے کہ وہ بلا وجہ حملہ نہیں کرتا۔دوسرے وہ زیر دست سے چشم پوشی کرتا ہے۔اگر شیر کے آگے لیٹ جائیں تو وہ حملہ نہیں کرتا سوائے اِس کے کہ اُس کے منہ کو خون لگ چکا ہو۔یہ خوبی شیر میں یہاں تک دیکھی گئی ہے کہ بعض جگہ چھوٹے بچے لیٹے ہوئے تھے کہ اتفاقاً وہاں شیر آ گیا۔ایسی حالت میں بجائے اُن پر حملہ کرنے کے وہ اُنہیں چاٹنے لگ گیا۔اسی طرح اس میں خوف بالکل نہیں ہوتا۔یہ خصوصیات ہیں جو شیر میں پائی جاتی ہیں۔اب اگر ہم کسی کے متعلق محض بہادر کا لفظ استعمال کریں تو گو اس سے اُس کی جرات اور دلیری کا اظہار ہو جائے گا مگر یہ اظہار نہیں ہوگا کہ وہ بلا وجہ حملہ نہیں کرتا۔وہ زیر دست سے چشم پوشی کرتا ہے اور ڈراور خوف اس میں بالکل نہیں۔تیسرے اس میں ہیت ہوتی ہے۔یہ خصوصیت بھی ایسی ہے جو شیر میں ہی پائی