انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 314

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِمُونَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ o قَالَ سَنَنظُرُ اَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَذِبِينَ اذْهَبُ بِكِتَبِى هَذَا فَأَلْقِهُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ ! اس کے بعد فر مایا:۔میرا آج کا مضمون پھر اُسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو تین سال پہلے میں بیان کر رہا تھا یعنی فضائل القرآن۔درمیان میں تین سال اس میں ناغہ ہو گیا کیونکہ رمضان کی وجہ سے لمبی تقریر نہیں کی جاسکتی تھی۔اس دفعہ بھی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں لمبی تقریر نہیں کر سکتا لیکن چونکہ میں اس مضمون کے بیان کرنے کا ارادہ کر چکا تھا اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اس مضمون کا کوئی حصہ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا جائے۔قرآن کریم کے سوا اور کسی کتاب کو تمام مذاہب جو دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ اپنی فضیلت اور برتری کا دعویٰ افضل الكتب ہونی کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں اور وہ اپنی مذہبی کتب کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ افضل الکتب ہیں لیکن اُن کی کتب کو یہ دعویٰ نہیں۔میں نے آج تک سوائے قرآن کریم کے کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ دوسری مذہبی کتب سے افضل ہے۔ہاں قرآن کریم بے شک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تمام الہامی کتابوں پر فضیلت رکھتا ہے مگر یہ کہ وہ کس طرح افضل ہے یہ ایک سوال ہے جس کا جواب دینا مسلمانوں کے ذقے ہے۔غیر مذاہب والے یا تو قرآن پڑھتے نہیں یا بوجہ اس کے کہ قرآن تعصب کی نگاہ سے پڑھتے ہیں صاف دل لے کر اس کا مطالعہ نہیں کرتے۔یا بوجہ اس کے کہ وہ قلب مطہر نہیں رکھتے اور قرآن فرماتا ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ میرے مطالب اور معانی مطہر قلوب پر ہی کھل سکتے ہیں قرآن کریم کے مطالب اُن پر نہیں گھلتے۔پس یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن تک قرآن کریم کے مطالب پہنچا ئیں اور ثابت کریں کہ قرآن کریم نہ صرف ایک اعلیٰ کتاب ہے بلکہ وہ ساری الہامی کتابوں پر فضیلت رکھتی ہے۔اس سلسلہ میں پانچ لیکچر میں پہلے دے چکا ہوں۔ایک ۱۹۲۸ء میں تمہیدی طور پر میں نے دیا تھا مگر اُس وقت طبیعت بہت علیل تھی اس لئے صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ ہی میں نے بعض باتیں بیان کی تھیں۔پھر ۱۹۲۹ء،۱۹۳۰ء،۱۹۳۱ ء اور ۱۹۳۲ء میں چار تفصیلی لیکچر میں نے فضائل القرآن پر دیئے گو بعض حصے اُس وقت بھی چھوڑ نے