انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiv of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxiv

انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۸ تعارف کتب ور نہ ہلاک ہو جاؤ گے۔قرآن کریم کی ہر آیت دوسری کی تصدیق کرتی ہے۔پس جو آیت دوسری کی تصدیق نہ کرے اس کے معنی بدلنے چاہئیں اور دونوں آیات کے مضمون میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تقریر کے آخر میں حضور نے فرمایا:۔غرض قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بے شک مجھے اس دعوئی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اُسے ماننا پڑے گا کہ واقع میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں“۔(۲۳) جماعت احمدیہ کے خلاف تازہ فتنہ میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کا حصہ کے مؤرخہ ۲۶ جون ۱۹۳۷ء کو بمقام بیت اقصی قادیان ، سید نا لمصلح الموعود نے خطاب فرمایا جس میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کی فتنہ پردازیوں اور جماعت کے خلاف بغض و کینہ کی تفصیلات سے احباب جماعت کو آگاہ فرمایا اور اُسے اخراج اور مقاطعہ کی سزا سنائی۔حضور نے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ اگر کسی کو سزا ملے تو اُسے سزا برداشت کرنی چاہئے اور ساتھ تو بہ کرنی چاہئے اگر وہ قصور وار نہیں تو بھی وہ اپنے امیر پر کم از کم اس قدرحسن ظنی تو رکھے کہ اُس نے دیانتداری سے فیصلہ کیا ہے اس صورت میں اللہ اس کی مدد کرے گا اور جزا دے گا۔اطاعت کا مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قانون یہی ہے کہ جو بھی امیر ہو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اُس کی فرمانبرداری کی جائے ورنہ دنیا کا کوئی نظام نہیں چل سکتا۔اس تمہید کے بعد حضور نے میاں فخر الدین ملتانی کے افتراء اور بہتان بازی کی تفصیلات