انوارالعلوم (جلد 14) — Page 290
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانه رب العزت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے تقریر فرموده ۲۶ - دسمبر ۱۹۳۶ء بر موقع افتتاح جلسہ سالانہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔سب سے پہلے تو میں ان تمام بھائیوں کو جو جلسہ سالانہ کی شمولیت کیلئے بیرون جات سے تشریف لائے ہیں ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتا ہوں۔اس کے بعد دعا کے ساتھ اس جلسہ کا افتتاح کرنے سے پہلے میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج سے قریباً چالیس سال پہلے اُس جگہ پر جہاں اب مدرسہ احمدیہ کے لڑکے پڑھتے ہیں، ایک ٹوٹی ہوئی فصیل ہوا کرتی تھی۔ہمارے آباء واجداد کے زمانہ میں قادیان کی حفاظت کیلئے وہ کچی فصیل بنی ہوئی تھی جو خاصی چوڑی تھی اور ایک گڈا اس پر چل سکتا تھا۔پھر انگریزی حکومت نے جب اسے خو وا کر نیلام کر دیا تو اُس کا کچھ ٹکڑا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مہمان خانہ بنانے کی نیت سے لے لیا تھا۔وہ ایک زمین لمبی سی چلی جاتی تھی۔میں نہیں کہہ سکتا اُس وقت ۱۸۹۳ء تھا یا ۱۸۹۴ ء یا ۱۸۹۵ء۔قریب قریباً اسی قسم کا زمانہ تھا، یہی دن تھے ، یہی موسم تھا، یہی مہینہ تھا۔کچھ لوگ جو ابھی احمدی نہیں کہلاتے تھے کیونکہ ابھی احمدی نام سے یہ جماعت یاد نہیں کی جاتی تھی مگر یہی مقاصد اور یہی مد عالے کر وہ قادیان میں جمع ہوئے۔میں نہیں کہہ سکتا آیا وہ ساری کارروائی اسی جگہ ہوئی یا کارروائی کا بعض حصہ اس جگہ ہوا اور بعض مسجد میں۔کیونکہ میری عمر اُس وقت سات آٹھ سال کی ہو گی اس لئے میں زیادہ تفصیلی طور پر اس بات کو یاد نہیں رکھ سکا، میں اُس وقت اس اجتماع کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا، مجھے اتنا یاد ہے کہ میں وہاں جمع ہونے والے لوگوں کے ارد گرد دوڑتا اور کھیلتا پھرتا تھا۔