انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 286

انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل خلاف چل رہے تھے۔اگر سابق بادشاہ ، بادشاہ رہتے ہوئے یہ شادی کر لیتے تو قانون یقیناًان کی طرف ہوتا ، ملک کی اکثریت یقیناً ان کی طرف ہوتی لیکن فساد ضرور ہوتا اور اسی سے بچنے کیلئے انہوں نے تخت کو چھوڑ دیا۔ہمارے لئے تو یہ سوال ایک اور طرح بھی اہم ہے اور وہی اس وقت میرے مضمون لکھنے کا موجب ہوا ہے اور وہ یہ کہ اس واقعہ سے ہمارے آنحضرت ﷺ کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور آپ پر لگائے جانے والے اعتراضوں میں سے ایک اعتراض دُور ہوا ہے۔پیشگوئی تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں عیسائیت آپ ہی آپ پھلنی شروع ہو جائے گی۔یہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ مسیحیت کی نمائندہ حکومت میں یعنی دنیا کی اس واحد حکومت میں جس کے بادشاہ کو محافظ عیسائیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ایسے تغیرات پیدا ہو رہے ہیں کہ اس کے ایک نہایت مقبول بادشاہ نے مسیحیت کی بعض رسوم ادا کرنے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ وہ ان میں یقین نہیں رکھتا۔اور اعتراض جس کا ازالہ ہوا ہے یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے طلاق کو جائز قرار دیا اور مطلقہ عورتوں سے شادی کی کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا کہ طلاق کی ضرورت اب اس شدت سے تسلیم کی جاتی ہے اور مطلقہ عورت کی عزت کو جبکہ وہ اخلاقی الزام سے متہم نہ ہو اس صفائی سے تسلیم کیا جاتا ہے کہ بادشاہ اس سوال کو حل کرنے کیلئے اپنی بادشاہت تک کو ترک کرنے کیلئے تیار ہورہے ہیں۔ایک برطانوی مسلمان کا دل اُس وقت کس طرح خوشی سے اُچھل رہا تھا جبکہ وہ گزشتہ واقعات کو پڑھتے ہوئے یہ دیکھتا تھا کہ عیسائیت کے خلاف وہی نہیں بلکہ اُس کا بادشاہ بھی لڑ رہا ہے اور اسلام کے کمینہ دشمن کے اعتراض کو وہی دور نہیں کر رہا بلکہ اس کا مسیحی کہلانے والا بادشاہ بھی اس اعتراض کی لغویت ثابت کرنے کیلئے اپنے تخت کو چھوڑنے کو تیار ہے۔پادری سمجھتے ہیں کہ وہ اس جنگ میں کامیاب رہے ہیں لیکن ایڈورڈ کی قربانی ضائع نہیں جائے گی کیونکہ وہ پیشگوئیوں کے ماتحت ہوئی۔یہ بیج بڑھے گا اور ایک دن آئے گا کہ انگلستان نہ صرف اسلامی تعلیم کے مطابق طلاق کو جائز قرار دے گا بلکہ دوسرے مسائل کے متعلق بھی وہ اسلامی تعلیم کے مطابق قانون جاری کرنے پر مجبور ہو گا۔بادشاہ آخر کیا ہوتا ہے؟ ملک اور قوم کا خادم اور خادم اپنے آقا کیلئے جان دیا ہی کرتے ہیں۔ایڈورڈ نے اپنی قربانی دے کر آئندہ عمارت کی پہلی اینٹ مہیا کی ہے۔اس کے بعد دوسری اینٹیں آئیں گی اور ایک نئی عمارت تیار