انوارالعلوم (جلد 14) — Page 285
حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل انوار العلوم جلد ۱۴ بے عزتی نہیں ہونے دوں گا جس سے میں نے وعدہ کیا ہے اور میں ملک میں فساد بھی نہیں ہونے دوں گا۔پس ان دونوں صورتوں کے پیدا کرنے کیلئے میں وہ قدم اُٹھاؤں گا جس کے اُٹھانے کیلئے غالباً بہت سے لوگ تیار نہ ہوں گے۔یعنی میں بادشاہت سے الگ ہو کر ملک کو فساد سے اور اپنی موعو وہ بیوی کو ذلت سے بچالوں گا، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ان حالات میں یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ملک کو ایک عورت کی خاطر چھوڑ دیا اگر ملک کی اکثریت کا مطالبہ یہ ہوتا کہ وہ اُس عورت کو چھوڑ دیں یا قانون کا مطالبہ یہ ہوتا کہ وہ اُس عورت کو چھوڑ دیں تو بیشک ہم کہہ سکتے تھے کہ بادشاہ نے ایک عورت کی خاطر ملک کو چھوڑ دیا مگر ملک کی اکثریت بادشاہ کی تائید میں تھی جس کا ثبوت مقبول پر یس کی تائید سے اور ان مظاہرات سے ملتا ہے جو اُن دنوں کئے گئے اور قانون بھی ان کی تائید میں تھا کیونکہ قانون نے طلاق کو جائز قرار دے کر مطلقہ عورت کی حیثیت کو سوسائٹی میں قائم کر دیا ہے۔پس جب ملک اور قانون بادشاہ کی تائید میں تھے تو ثابت ہوا کہ بادشاہ نے ملک کو عورت کی خاطر نہیں چھوڑا بلکہ ملک کو فساد سے بچانے کیلئے اور قانون کی عزت کے قیام کیلئے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے بادشاہت کو چھوڑا، اور یہ یقیناً ایک قربانی ہے اور اس معاملہ میں ان پر اعتراض کرنے والے پادری یقینا غلطی پر تھے اور ہیں۔کیا یہ بات سمجھنی ہمارے لئے مشکل ہے کہ ان پادریوں کی نیت ہرگز درست نہیں ہوسکتی جو اُس وقت تک خاموش رہے جب تک کہ بادشاہ کے تعلقات خواہ محمد ود طور پر لیکن آزادانہ طور پر مستر سمپسن سے قائم تھے لیکن جب وہ اُس سے شادی کرنے لگے اور اپنے تعلق کو قانون اور اخلاق کی حدود میں لانے لگے تو ان پادریوں نے شور مچادیا کہ بادشاہ کا یہ فعل ہم برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ جس عورت کا پہلا خاوند زندہ ہو، وہ ہماری ملکہ کیونکر ہوسکتی ہے۔بعض نادانوں نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ بادشاہ چاہیں تو پرائیویٹ تعلقات اس عورت سے رکھ سکتے ہیں لیکن شادی کر کے مطلقہ عورت کو عزت بخشنا ان کیلئے جائز نہیں۔کیا ایسے لوگوں کی باتوں کو ہم معقول کہہ سکتے ہیں۔غرض گو پہلے اور اصل جھگڑے میں جو مذہب کے متعلق تھا بادشاہ اور پادری دونوں ہی قانون اور فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے حق پر تھے لیکن مسٹر سمپسن کی شادی کے سوال میں صرف بادشاہ حق پر تھے اور ان پر اعتراض کرنے والے ملک کی اکثریت اور ملک کے قانون کے