انوارالعلوم (جلد 14) — Page 275
انوار العلوم جلد ۱۴ ↓ ایک رئیس سے مکالمہ اپنے پاس رکھو ان کو خوب تبلیغ کرو اور پھر ان کو اگر وہ نہ مانیں تو بحفاظت ان کے مقام پر پہنچا دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک جوشیلا عرب قادیان میں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور باقی احباب نے اسے خوب سمجھایا لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یہ شخص تبلیغ سے نہیں بلکہ دعا سے سمجھے گا اور اس پر دعا کا حربہ اثر کرے گا۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا فرمائی تو دوسرے دن ہی وہ خود مسجد میں آ کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے غور کیا ہے وفات مسیح کا یہ ثبوت ہے اور صداقت مسیح موعود کا یہ ثبوت ہے اور خود ہی دلائل دینے لگ گیا۔گو یا اللہ تعالیٰ نے خود ہی اُسے دلائل سکھا دیئے اور اس نے بیعت کر لی۔پھر وہ شخص اپنے ملک کو واپس چلا گیا۔جب میں حج کو گیا تو مجھے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہاں لوگ کہتے ہیں کہ یہاں ایک شخص یوسف نامی تھا۔وہ ایک قافلہ کے ساتھ ملکر ایک ہندوستانی کو مسیح و مہدی کہتا تھا اور لوگوں کو باتیں سناتا جاتا تھا اور قافلے کے ساتھ ساتھ چلتا جاتا تھا۔لوگ اس کو مارتے اور وہ بیہوش ہو جاتا مگر جب اسے ہوش آتا تو وہ بھاگ کر پھر قافلے سے آملتا اور تبلیغ کرنے لگ جاتا۔پھر معلوم نہیں اُس کو مار دیا گیا یا وہ فوت ہو گیا۔عرب میں اس کا کوئی پتہ نہیں لگ سکا۔غرض جب اللہ تعالیٰ نے اُس کو سمجھایا تو اُس نے اس قدر جوش سے تبلیغ کی کہ جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔پس کہیں کہیں ایسے واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں۔(الفضل ۸- نومبر ۱۹۳۶ء) النحل: ٣٦ المائدة: ۶۸ الاعلى: ۱۰ موضوعات ملا علی قاری صفحه ۳۵ مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۶ھ بخاری کتاب المغازى باب أينَ رَكَزَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الراية يوم الفتح بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم (الخ) ترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابى بكر الصديق اسد الغابة في معرفة الصحابة الجزء الثالث صفحه ۳۱۷ مطبوعہ مصر ۱۲۸۶ھ ترمذى ابواب صفة القيامة باب اعقلهاوتوكل ا المؤمن: ۶۱ ال :التوبة ٦ :