انوارالعلوم (جلد 14) — Page 258
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات اور منافقت کی ان حکومتوں کو جنہوں نے خدائی الہام کو مغلوب کیا ہوا ہے ریزہ ریزہ کر دو ، کیا تم نہیں سمجھ سکتے یہ کتنا عظیم الشان کام ہے جو تمہارے سپر د کیا گیا ہے ۔ بچپن میں قوت واہمہ چونکہ زیادہ تیز ہوتی ہے اس لئے تم اس کو یوں سمجھ لو کہ اگر کبھی اتفاقا شام کے وقت تم دودھ پینے کیلئے نکلو، تمہیں دودھ کی دُکان پر یہ نظارہ نظر آئے گا کہ ایک مشہور ڈاکو کسی آدمی کو مار رہا ہے، فرض کرو جسے مارا جا رہا ہے وہ تمہارا بھائی ہے یا کوئی اور رشتہ دار ، تم چھوٹے سے بچے ہو آٹھ یا دس سال تمہاری عمر ہے اور وہ مضبوط اور علاقہ میں مشہور ڈاکو ہے جب تم دیکھتے ہو کہ وہ تمہارے کسی عزیز پر حملہ آور ہے تو تم جوش محبت میں اس پر حملہ کر دیتے ہو اور تمہارے چھوٹے سے بازوؤں میں اُس وقت ایسی طاقت آ جاتی ہے کہ تم اس ڈاکو کو مار لیتے ہو تو غور کرواس وقت تمہارے دل میں کتنا فخر پیدا ہوگا اور تم کس طرح لوگوں کو جگا جگا کر یہ بتاؤ گے کہ فلاں ڈاکو کو آج ہم نے مار دیا۔ پھر تم سوچو کہ اگر ایک ڈاکو کے مارنے پر تم اس قدر فخر کر سکتے ہو تو اُن لاکھوں ڈاکوؤں کے مارنے پر جو اسلام کی متاع پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ، اُن فلسفیوں کی فلسفیت سے کو کچلنے پر ، ان اباحت والوں کی اباحت اور اُن مداہنت والا والوں کی مداہنت کو صفحۂ عالم نابود کرنے پر جو اسلام ایسے قیمتی عزیز کے کمزور جسم کو دبا ر ہے اور اُس کے گلے کو گھونٹ رہے ہیں تمہارے دل میں کس قدر فخر پیدا ہو گا اور کس خوشی اور سرور سے تم اپنی گردن اونچی کر کے کہو گے کہ آج ہم نے شرک اور کفر کو نابود کر دیا۔ یہ چیز ہے جس کو اپنے سامنے رکھنا تمہارا فرض ہے۔ تم بور ڈر نہیں بلکہ تم خدا تعالیٰ کے سپاہی ہو اور تمہیں اس لئے تیار کیا جا رہا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دو۔ اگر تم سلسلہ اور اسلام کیلئے اور خلافت اور نظام سلسلہ کیلئے اپنی جانیں نہ دو گے تو تم بھی محض باتیں کرنے والے ٹھہرو گے۔ پس تم اسلام کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے بنوا اور منافقوں کی ہاں میں ہاں مت ملاؤ بلکہ انہیں کچلنے منافقانہ بات تمہارے باپ کے منہ سے نکلے یا تمہارے بھائی یا کسی اور عزیز کے منہ سے ۔ صحابہ کے زمانہ میں ہمیں اس قسم کا نظارہ نظر آتا ہے۔ مدینہ میں ایک منافق نے جب یہ بات کہی کی خدمت والے بنوں خواہ صلى الله که مهاجرین نے یہاں آ کر فتنہ و فساد مچا دیا ہے تو اُس شخص کا لڑکا رسول کریم ع کی۔ میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا مجھے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ میرے باپ نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔ یا رَسُول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ