انوارالعلوم (جلد 14) — Page 256
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات محسوس نہیں ہوئی لیکن کئی نادان ہیں جو اس پر بھی اعتراض کر دیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ قرآن کے معارف سمجھا تا ہے۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے کہ پھر آپ لغت کیوں دیکھتے تھے ؟ اور ممکن ہے کہ میرے متعلق بھی بعض لوگ یہ اعتراض کریں اس لئے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ لغت قرآنی معارف معلوم کرنے کے لئے نہیں دیکھی جاتی بلکہ مختلف معانی معلوم کرنے کیلئے دیکھی جاتی ہے اور اصل چیز معارف ہیں نہ کہ معانی۔پس قرآنی معارف کے لئے یا اس کی آیات میں ترتیب معلوم کرنے کے لئے مجھے کبھی غور نہیں کرنا پڑا۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ جن آیات پر مجھے غور کرنا پڑا ہے وہ بہت ہی محدود ہیں۔اسی طرح اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہی سلوک کیا اور اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ جس صداقت کا اس سکیم کے ذریعہ میں نے اظہار کیا ہے وہ میرا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کا فخر مجھ کو نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے جنہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ تک پہنچایا۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہے جو پھر ہمیں اس کے دروازہ تک لے گئے اور اگر میں نے اس پر کچھ وقت خرچ کیا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پیغامبر ہو جو کسی دوسرے کا پیغام لوگوں تک پہنچا دے۔میں نے بھی ایک پیغامبر کی حیثیت میں آپ لوگوں تک وہ پیغام پہنچا دیا ہے۔آسمان سے فرشتے اتر کر مجھ پر ایک بات ظاہر کر دیتے ہیں اور وہی چیز جو دنیا کے لئے عقدہ لا یخل ہوتی ہے میرے لئے ایسی ہی آسان ہو جاتی ہے جیسے شیریں اور لذیذ پھل کھانے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔بسا اوقات القائی طور پر مجھے آیات بتلائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس آیت کو فلاں آیت سے ملا کر پڑھو تو مطلب حل ہو جائے گا۔اسی طرح تحریک جدید بھی القائی طور پر خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھائی ہے۔جب میں ابتدائی خطبات دے رہا تھا مجھے خود بھی یہ معلوم نہ تھا کہ میں کیا بیان کروں گا اور جب میں نے اس سکیم کو بیان کیا تو میں اس خیال میں تھا کہ ابھی اس سکیم کو مکمل کروں گا اور میں خود بھی اس امر کو نہیں سمجھ سکا تھا کہ اس سکیم میں ہر چیز موجود ہے مگر بعد میں جُوں جوں اس سکیم پر میں نے غور کیا مجھے معلوم ہوا کہ تمام ضروری باتیں اس سکیم میں بیان ہو چکی ہیں اور اب کم از کم اس صدی کیلئے تمہارے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ سب اس میں موجود ہیں۔سوائے حجزئیات کے کہ وہ ہر وقت بدلی جا سکتی ہیں۔پس جماعت کو اپنی ترقی اور عظمت کیلئے اس تحریک کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا نہایت ضروری