انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 253

انوار العلوم جلد ۱۴ یک مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات ہے جس پر کوئی قوم فخر کر سکتی ہے اور عزت سے اپنی گردن اونچی کر سکتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو اختیار کرنے کے بعد کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اگر قوم صرف انہی لوگوں کی قربانیوں سے زندہ رہ سکتی جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دیں تو صرف مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ہی کہا جاتا اور مِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ کا فقرہ کبھی نہ کہا جاتا مگر مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ کے ساتھ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ كے الفاظ کا آنا بتاتا ہے کہ قوم مرنے والوں سے زندہ نہیں رہتی بلکہ اُن زندہ رہنے والوں سے زندہ رہتی ہے جو بروقت مرنے کیلئے تیار ہوں۔پس حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت ہیں، مولوی نعمت اللہ صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت ہیں۔مولوی عبد الرحمن صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت ہیں ، مولوی عبدالحلیم صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت ہیں ، قاری نور علی صاحب شہید ہماری زندگی کا ثبوت ہیں ، اسی طرح ہندوستان کے وہ بہت سے لوگ جو مخالفین کے مختلف مصائب کے نتیجہ میں شہید ہوئے ہماری زندگی کا ثبوت ہیں ، مصر میں یا اور بعض علاقوں میں جو لوگ ہماری جماعت میں سے مارے گئے یا زخمی ہوئے وہ ہماری زندگی کا ثبوت ہیں، ہماری زندگیوں کا ثبوت اُن کی وہ روح ہے جو ہمارے زندوں میں پائی جاتی ہو۔اگر افغان قوم میں وہ روح ہے جو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے دکھائی تو افغان قوم زندہ ہے اور اگر افغان قوم میں وہ روح نہیں تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت صاحبزادہ عبداللطیف کی زندگی کا ثبوت ہے مگر ہماری زندگی کا ثبوت نہیں ہو سکتی۔ہاں ! ہمارا اسی قسم کی قربانیوں کی خواہش کرنا، اسی قسم کی قربانیوں کیلئے تلملانا اور اضطراب دکھانا ہماری زندگی کا ثبوت ہو سکتا ہے اور صحابہ کی زندگی کا ثبوت بھی یہی روح تھی۔پس اسلام اور مسلمانوں کی زندگی مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ کے مصداق وجودوں سے نہیں تھی بلکہ ان لوگوں کے وجود سے تھی جو مِنْهُم مَّنْ يَّنْتَظِرُ کے مصداق تھے۔اگر مرنے والے مر جائیں اور پیچھے منافق اور کمزور ایمان والے رہ جائیں تو یہ اُس قوم کی موت کی علامت ہوگی زندگی کی علامت نہیں ہوگی۔اگر ان بہادروں کا وجود ہی زندگی کی علامت ہوتا جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان پر کھیل گئے تو خدا تعالیٰ انہیں کیوں مرنے دیتا۔آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبیوں کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے کیا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے سے ڈرتے ہیں؟ یا نبیوں کے خلفاء میں سے بعض کیوں ایسے ہوتے ہیں جنہیں طبعی موت دینے کا اللہ تعالیٰ وعدہ دیتا ہے کیا اس لئے کہ وہ بُز دل ہوتے ہیں نہیں بلکہ اس لئے