انوارالعلوم (جلد 14) — Page 251
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایہ اہم ہدایات ہماری جماعت کے تمام افراد کی زندگیاں آجائیں گی اور جب جماعت احمد یہ اُس چٹان پر قائم ہو جائے گی جس چٹان پر قائم ہونے کے بعد زندگی اور موت ، امارت اور غربت کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔یاد رکھو قوموں کے احیاء اور قوموں کی زندگی میں انفرادی قربانی کوئی چیز نہیں بلکہ قوموں کی زندگی کیلئے جماعتی قربانی کی ضرورت ہو ا کرتی ہے۔بیرونی ممالک کے مبلغین میں سے اگر کسی مبلغ نے خطرات برداشت کئے اور اپنے نفس پر مصیبتیں جھیلیں تو بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو ہمارا بہادر سپاہی مصائب اور خطرات کے اوقات میں بھی کیسا ثابت قدم نکلا۔مگر اس کی جرات اور بہادری کو دیکھ کر ہمیں یہ کہنے کا حق ہرگز حاصل نہیں کہ دیکھو ہماری بہادر قوم۔کیونکہ اُس کی بہادری اُس کے نفس سے تعلق رکھتی ہے ، قوم کا حق نہیں کہ وہ مجموعی حیثیت سے اپنی طرف اسے منسوب کرے لیکن بہادر سپاہی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے بلکہ بہادر قومیں کامیابی حاصل کیا کرتی ہیں۔پس جب تک قومی لحاظ سے اپنی بہادری کا مظاہرہ نہ ہواور شاندار مظاہرہ نہ ہو اُس وقت تک قومی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔فتح کا دن وہی ہو گا جب وہ طالب علم جو اس وقت ہمارے سامنے بیٹھے ہیں ان کے سامنے ان کے استاد اور ان کے نگران ان کے فرائض دُہراتے رہیں اور انہیں یہ سبق پڑھاتے چلے جائیں یہاں تک کہ ان سب میں قربانی کی روح پیدا ہو جائے اور تحریک جدید ہی اِن کا اوڑھنا ہو، تحریک جدید ہی ان کا بچھونا ہو، تحریک جدید ہی ان کی دوست ہوا ور تحریک جدید ہی ان کی عزیز ہو، جب رات اور دن انہیں کسی پہلو بھی چین نہ آئے ، جب تک نہ صرف ان کے بلکہ ان کے رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور ان کے ہمسایوں کے کام کاج بھی تحریک جدید کے ماتحت نہ آجائیں اور جب تک وہ اس یقین پر قائم نہ ہو جائیں کہ احمدیت تحریک جدید ہے اور تحریک جدید احمدیت ہے اُس وقت تک قومی فتح کا زمانہ نہیں آ سکتا۔ہاں انفرادی فتح کا زمانہ آ سکتا ہے مگر انفرادی فتح یا انفرادی قربانی کوئی چیز نہیں۔ہار نے اور شکست کھانے والی قوموں میں بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جنہوں نے انفرادی لحاظ سے بہت بڑی جرأت اور بہادری دکھائی۔ٹیپو سلطان مارا گیا کیونکہ اُس کی قوم نے اُس سے غداری کی لیکن اُس کا نام آج تک زندہ ہے جس وقت وہ اسلام کی حکومت کے قیام کیلئے انگریزوں سے لڑ رہا تھا اُس نے نظام حیدر کو لکھا کہ میں تمہارے ماتحت ایک سپاہی کی حیثیت میں کام کرنے کیلئے تیار ہوں آؤ اور ہم دونوں ملکر انگریزوں کا مقابلہ کریں مگر نظام نے انکار کر