انوارالعلوم (جلد 14) — Page 240
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایا۔آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا ، جو شقاق آج عیسائیت میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی عیسائی مبلغ کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو عیسائی مذہب آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا ، جو شقاق آج بدھوں میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی بدھ مبلغ کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو بدھ مذہب آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا۔غرض ان تمام فرقوں کی لعنتیں اُن کمزور مبلغوں پر بھی پڑتی ہیں جو اس شقاق اور تفرقہ کے موجب ہوئے کیونکہ اس تفرقہ اور شقاق کی بنیاد انہی کے ہاتھوں سے پڑی۔رسول کریم نے اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ جس شخص سے کوئی ہدایت پاتا ہے اُس کی نیکیوں کا ثواب جس طرح اُس شخص کو ملتا ہے جو نیکی کر رہا ہو اس طرح ایک حصہ ثواب کا اُس شخص کو بھی ملتا ہے جس کے ذریعہ اُس نے ہدایت پائی ہو اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا شخص گمراہ ہوتا ہے اُس کی گمراہی اور ضلالت کا گناہ جس طرح اسے ملتا ہے اسی طرح اُس شخص کو بھی گناہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوا ہو۔کے ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں یہ بات ہمارے لئے موجود ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ - ۵ تمہارے لئے رسول کریم علی کے وجود میں نمونہ پایا جاتا ہے۔آپ نے تبلیغ شروع کی چندلوگوں نے آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر آپ کو قبول کر لیا مگر باقیوں نے انکار کر دیا۔نہ مانا، نہ مانا، نہ مانا یہاں تک کہ سال گزر گیا، دوسرا سال گزر گیا، تیسرا سال گزر گیا، چوتھا سال گذر گیا حتی کہ دس سال گذر گئے ، گیارہ سال گذر گئے اور لوگ انکار کرتے چلے گئے۔ایک ظاہر بین شخص کی نگاہ میں اس کا مایوسی کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا مگر رسول کریم ﷺے مایوس نہ ہوئے۔تب اسی حالت میں مکہ کے لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بعض باتوں میں نرمی کر دیں تو ہم ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) شرک کریں، ہم یہ نہیں کہتے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنا مذہب چھوڑ دیں، ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال نہ کریں اور ان کی تحقیر اور تذلیل نہ کریں۔کیا یہی وہ چیز نہیں جو مغرب میں ہمارے مبلغین کے سامنے پیش کی جاتی ہے؟ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کیا جواب دیا ؟ باوجود اس کے کہ گیارہ سال کی لمبی مایوسی کے بعد امید کی جھلک دکھائی دی تھی ، گیارہ سال کی لمبی تاریکی کے بعد روشنی کی ایک شعاع نکی تھی اور کفار صرف اتنی سی بات پر آپ سے ملنے