انوارالعلوم (جلد 14) — Page 214
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔احساس ہے کہ وہ آخری زمانہ کے اس بہت بڑے فتنہ کا سر کچلنے اور اسے دنیا سے ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے۔ہر شخص اپنے نفس سے سوال کرے اور سوچے کہ اگر اس کے گھر کو آگ لگ جائے تو کیا اس آگ کو بجھانے کیلئے اس کی کوشش ویسی ہی ہو گی جیسی کوشش وہ آج اس وقت کر رہا ہے جب خدا کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہے۔یا کیا اس کا بچہ اگر موت کے پنجہ میں گرفتار ہو تو وہ اس کو بچانے کیلئے اتنی ہی جد و جہد کیا کرتا ہے جتنی جد و جہد آج وہ اسلام کو موت کے منہ سے بچانے کیلئے کر رہا ہے۔کیا اُس کے دل میں اُس وقت جو درد اور تکلیف پیدا ہوتی ہے اور اس کے اعزہ واقرباء آٹھوں پہر جس طرح بے قرار رہتے ہیں اسی قسم کا درد، اسی قسم کی تکلیف اور اسی قسم کی بے قراری تمہارے دلوں میں اسلام کی مصیبت دیکھ کر پیدا ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو کیونکر سمجھا جاسکتا ہے کہ تمہارے نزدیک یہ فتنہ اتنا ہی عظیم الشان ہے جتنا رسول کریم ﷺ نے بیان کیا۔میں تو دیکھتا ہوں کہ ابھی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی قوتوں کو ضائع کیا جاتا ہے۔کئی ہیں جو اپنی اولادوں کی ذرا ذراسی باتوں پر ابتلا میں آ جاتے ہیں۔کئی ہیں جو چندوں کی وجہ سے ابتلا میں آجاتے ہیں، کئی ہیں جو قربانیوں کے دوسرے مطالبات پر ابتلا میں آجاتے ہیں ، وہ دکھ جو انسان کو بے چین کر دیتا ہے، وہ ایمان جو انسان کو شکوک وشبہات سے بالا کر دیتا ہے ، وہ عرفان جو محبت کی چنگاری انسان کے قلب میں پیدا کر دیتا ہے، ابھی بہت کم لوگوں میں نظر آتا ہے۔اگر وہ محبت کی چنگاری ہماری جماعت کے قلوب کو گر مادیتی تو آج دنیا کی حالت کچھ سے کچھ بدلی ہوئی ہوتی۔آج کل فلسطین میں فسادات ہور ہے اور ایک دوسرے کولوگ مار رہے ہیں۔گل میرے ایک بھائی نے عربی کے ایک اخبار کی ایک تصویر مجھے بھیجی۔اس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک عرب لیٹا ہوا ہے، اس کا ماتھا بالکل اُڑ چکا ہے، اس کا مغز نظر آ رہا ہے، ایک آنکھ اس کی نکل چکی ہے اور دوسری آنکھ زخمی ہے۔میں نے اسے دیکھا اور میرا دل اس سے متا ثر ہوا۔کئی منٹ تک میں اسے دیکھتا رہا اور میرا دل تکلیف اور غم سے بھرتا چلا گیا۔مگر میں نے سوچا یہ ایک آدمی ہے اس کے مرنے سے دنیا میں کونسا تغیر آ گیا۔اس کا سارا جسم نہیں اُڑا بلکہ ما تھا اُڑا، ایک آنکھ نکلی اور اس کی دوسری آنکھ زخمی ہوئی۔لیکن اس کو دیکھ کر ہر شخص کے جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں وہ مصر کا اخبار تھا۔اور اس تصویر کے اوپر لکھا ہوا تھا۔فلسطین کے بھائی کی تکلیف کو دیکھ اور اس کی مدد کیلئے اٹھے۔میں نے کہا اس کا سارا جسم سلامت ہے صرف اس کا ماتھا اُڑا، ایک آنکھ نکلی اور