انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 206

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔یقینی چیز موت ہے مگر کیا سب سے زیادہ انسان اسی کو نہیں بھولتا۔کوئی انسان ہے جو کہے کہ میں نے اپنا کوئی رشتہ دار مرتا ہوا نہیں دیکھا، کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ وہ آدم سے پہلے زمانہ کا ہے جس کا نہ کوئی باپ تھا نہ کوئی اور رشتہ دار اور وہ اب تک موت سے محفوظ ہے۔اگر آج کوئی آدم کا بیٹا بھی ہے تو بھی آدم اس کے سامنے مرا، اگر آج کوئی نوح کا بیٹا ہے ، تب بھی آدم اور اس کی اولاد اور حضرت نوح کی وفات اس کے سامنے ہوئی۔اگر کوئی موسٹی سے بھی تعلق رکھنے والا ہے، تب بھی حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابرا ہیم اور دوسرے لاکھوں انسان اس نے مرتے دیکھے، اسی طرح اگر آج کوئی حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ کا موجود ہے یا رسول کریم کے زمانہ کا کوئی پایا جائے تو ہزار ہا انسان اس کے سامنے فوت ہو چکے مگر اس قسم کا آدمی تو دنیا میں کوئی موجود نہیں۔انسان کی اوسط عمر چالیس پچاس سال ہوتی ہے۔اس تھوڑے سے عرصہ میں ہی اس کے کئی بھائی بند، رشتہ دار اور دوست اس کے سامنے فوت ہو جاتے ہیں مگر کتنے ہیں جو اپنی موت یاد رکھتے ہیں اور پھر کتنے ہیں جو موت کے آنے سے پہلے اس کیلئے تیاری کرتے ہیں۔در حقیقت میری تحریک کوئی جدید تحریک نہیں بلکہ یہ قدیم ترین تحریک ہے۔اور اس جدید کے لفظ سے صرف اُن ماؤف اور اُن بیمار دماغوں سے تلقب کیا گیا ہے جو بغیر جدید کے کسی بات کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔جس طرح ڈاکٹر جب ایک مریض کا لمبے عرصہ تک علاج کرتا رہتا ہے تو بیمار بعض دفعہ کہتا ہے مجھے ان دواؤں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔تب وہ کہتا ہے اچھا میں آج تمہیں نئی دوا دیتا ہوں۔یہ کہ کر وہ پہلی دوا میں ہی ٹنکچر کا ر ڈم ملا کر اور خوشبو دار بنا کر اُسے دے دیتا ہے۔مریض سمجھتا ہے کہ مجھے نئی دوا دی گئی ہے اور ڈاکٹر بھی اسے نئی دوا کہنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس میں ایک نئی دوا ملا دیتا ہے۔مگر وہ اس لئے اسے جدید بناتا ہے تا مریض دوائی پیار ہے اور اس کی امید نہ ٹوٹے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک بڑھیا آئی۔اسے ملیر یا بخار تھا جو لمبا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے فرمایا تم کو نین کھایا کرو۔وہ کہنے لگی کو نین؟ میں تو اگر کسی کو نین کی گولی کا چوتھا حصہ بھی کھالوں تو ہفتہ ہفتہ بخار کی تیزی سے پھنکتی رہتی ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ کونین کھانے کیلئے تیار نہیں۔تو چونکہ عام طور پر ہمارے ملک میں کو نین کو گوئین کہتے ہیں جس کے معنی دو جہانوں کے ہوتے ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کھانے کو تو