انوارالعلوم (جلد 14) — Page 203
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تحریک جدید ایک قطرہ ہے قربانیوں کے اُس سمندر کا جو تمہارے سامنے آنے والا ہے تقریر فرموده ۲۸۔جون ۱۹۳۶ ء بر موقع جلسه تحریک جدید ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری صحت تو اس بات کی اجازت بالکل نہیں دیتی کہ میں تقریر کر سکوں لیکن انسان ان باتوں سے غافل ہوتا ہے جو اس کو نظر نہیں آتیں۔اگر کسی کے پاؤں میں کوئی زخم ہو اور وہ چلتا ہوا نظر آئے تو اس سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اس کو ملامت کرتا اور اس کی منتیں کرتا ہوا کہتا ہے آپ لیٹے رہیے تا زخم اچھا ہو جائے کیونکہ وہ زخم ان لوگوں کو نظر آ جاتا ہے۔لیکن جب وہی زخم اندرونی ہوتا ہے، ایک کو پیچش ہو جاتی ہے اور وہ اس تکلیف کا اظہار کرتا ہے تو اس کے دوست اسے کہتے ہیں یونہی نخرے کر رہا ہے۔اسے کیا ہوا ہے کہ یہ چل پھر نہیں سکتا۔وہی زخم اگر کسی کے گلے میں ہوتا ہے تو اس کی انسان چنداں پروانہیں کرتا اور یہ امید رکھتا ہے کہ باوجود اس زخم کے وہ بولتا چلا جائے اور وہ خیال کرتا ہے کہ بھلا تھوڑا سا بولنے میں کیا حرج ہے۔یہ عام انسانی فطرت کی کمزوری ہے اور انسان بوجہ اپنے محدود علم کے اس قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔میں نے تحریک جدید کے متعلق اس قدر باتیں کہہ دی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں مجھے اس بارہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر انسانی فطرت جدت پسند بھی ہے اور وہ سب کچھ سننے کے بعد پھر بھی خواہش کرتی ہے کہ کچھ اور سنایا جائے اور وہ اس سوال پر بھی بُرا مناتی ہے کہ تم جو اور سننے کے خواہش مند ہو پچھلے سننے پر تم نے کیا عمل کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں