انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 193

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سکھنے کی کوشش کی جائے اور پھر سال بھر کے سیکھے ہوئے لڑکے نئے داخل ہونے والے لڑکوں کو کام سکھا بھی سکیں گے۔اس سلسلہ میں جو مشکلات پیدا ہوں گی ، وہ تو بعد میں ہی دیکھنے میں آئیں گی مگر اصولی طور پر یہ بات مد نظر رکھی گئی ہے کہ اس طرح آہستہ آہستہ کام کو بڑھایا جائے۔میری تجویز یہ بھی ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ بھی اس کام میں حصہ لیں۔اور وہ اس طرح کہ اس سرمایہ کے جو اس پر لگایا جائے حصص خریدیں چنانچہ اس میں تجارتی طور پر حصہ لینے کیلئے میں نے جماعت کیلئے گنجائش رکھی ہے۔اس میں سے پچاس فیصدی تک سرمایہ کے حصے خریدے جاسکتے ہیں۔میں نے اس سکول کے متعلق اصول انتخاب میں یہ بات مدنظر رکھی ہے کہ تیامی کو مقدم رکھا جائے اور ان کی نسبت دوسرے لڑکوں کے انتخاب کی شرائط کڑی ہوں۔مثلاً پہلی شرط ان کیلئے یہ رکھی گئی ہے کہ وہ کم سے کم پرائمری پاس ہوں مگر یتیموں کیلئے پرائمری پاس ہونے کی شرط نہیں۔گو انہیں بھی اگر وہ ان پڑھ ہوں تعلیم دی جائے گی۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ ان کو بورڈنگ میں رکھا جائے گا اور پانچ سال انہیں یہاں رہنا ہو گا۔تین سال تک ان پر ہم خرچ کریں گے باقی دوسال میں اس آمد پر جو ان کی تیار کی ہوئی اشیاء سے حاصل ہوگی ان کا خرچ چلے گا۔پہلے تین سال تک استادوں کی تنخواہیں ، بورڈنگ کا خرچ اور کپڑے وغیرہ کا خرچ تحریک جدید کے ذمے ہو گا۔اس کے علاوہ ہم نے دو سال اس لئے زائد رکھے ہیں تا کہ وہ سلسلہ کا کام کریں اور اس قرض کا کچھ حصہ جو ان پر خرچ ہوا ہو، ادا کر سکیں۔اگر کوئی لڑکا بیچ میں ہی کام چھوڑ کر چلا جائے گا تو اسے وہ روپیہ واپس دینا ہو گا جو اس پر خرچ ہوا۔سوائے اس کے کہ کوئی اشدّ معذوری اسے پیش آ جائے مثلاً کوئی آنکھوں سے اندھا ہو جائے یا اور کسی طرح کام کے ناقابل ہو جائے۔کیونکہ ایسے کاموں میں اس قسم کے حادثات بھی ہو جانے کا اندیشہ ہوا کرتا ہے۔پس ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جولڑ کے داخل ہونا چاہیں وہی داخل ہو سکتے ہیں۔یتامی کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ ان کو بغیر کسی شرط کے لے لیا گیا ہے۔مگر دوسروں کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ کم سے کم پرائمری پاس ہوں۔آئندہ آہستہ آہستہ شرائط کٹڑی کر دی جائیں گی۔مثلاً پھر یہ شرط رکھ دی جائے گی کہ مڈل پاس طالب علم لئے جائیں۔اور مڈل تک کی تعلیم تو مجلس مشاورت میں ہماری جماعت کیلئے لازمی تعلیم قرار پا چکی ہے۔پس جب مڈل تک کی تعلیم ہر احمدی کیلئے لا زمی ہے تو بعد میں تعلیم کے اسی معیار کے لحاظ سے طالب علم سکول میں لئے جائیں گے۔