انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxiii

انوار العلوم جلد ۱۴ ۱۷ تعارف کنند کتب فرمایا تا کہ ان پیشوں کے ساتھ تمام لوگوں کی دلچسپی پیدا کر دی جائے۔حضور نے سکول کے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں اُستادوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لڑکوں میں یہ روح پیدا کریں کہ دنیا کے ساتھ انہیں دین بھی حاصل کرنا ہے گویا وہ دست بکار اور دل بیار کے مصداق بنیں۔شروع سے ہی ان کے اندر یہ روح پیدا کی جائے کہ سلسلہ کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنا ، اپنے نفسوں کو مارنا اور اپنے پیشوں کو صرف ذاتی مفاد تک محدود نہ رکھنا بلکہ ان سے سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچانا ان کا مقصد ہے۔( ۱۴ ) وہی ہمارا کرشن یہ وہ ٹریکٹ ہے جس میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے ہندوستان کو نہایت محبت سے اور نہایت لطیف انداز سے دعوت الی اللہ کی جسے انجمن احمد یہ ، خدام الاسلام نے ۲۹ مارچ ۱۹۳۶ ء کو بر موقع يوم التبلیغ شائع کیا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فیض عام کا تذکرہ نہایت خوبصورت انداز میں فرمایا جس سے تمام ہندو اور تمام مسلمان یکساں فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔فرمایا:۔”اے پیارے ہندو بھائیو! کیوں تم اُس آواز کی طرف دھیان نہیں کرتے جو تمہارے پر میشور نے ساری دنیا کو اپنے گرد جمع کرنے کیلئے بلند کی ہے۔اس زمانہ کا اوتار کسی خاص قوم کا نہیں ، وہ مہدی بھی ہے کیونکہ مسلمانوں کی نجات کا پیغام لایا ہے، وہ عیسی بھی ہے کیونکہ عیسائیوں کی ہدایت کا سامان لایا ہے۔وہ نہ کلنک اوتار بھی ہے کیونکہ وہ تمہارے لئے ہاں اے ہندو بھائیو! تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی محبت کی چادر کا تحفہ لایا ہے۔حضور نے ہندوؤں میں شرک داخل ہونے کی وجہ خدا تعالیٰ سے دُوری بتائی اور انہیں بتایا کہ نہ کرشن نے نہ رام چندر نے کسی مورتی کے آگے سر جھکا یا پس جو کام انہوں نے نہ کیا وہ آپ کیوں کرنے لگے؟ فرمایا کہ اس زمانہ میں کرشن علیہ السلام کی پیشگوئی کے عین مطابق وہ نہ کنکی اوتار آیا ہے تا کہ دوبارہ ہر شخص جو پر ماتما سے محبت کرنا چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے اپنے ایشور سے مل سکے۔آپ نے ہندوؤں کو اس بات کی دعوت دی کہ اگر کوئی سچے دل سے میری طرف