انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 189

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سکھنے کی کوشش کی جائے طب کے متعلق باقاعدہ طور پر کام شروع نہیں کیا گیا لیکن مبلغ جو باہر جاتے ہیں انہیں طب پڑھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ایک الگ طبی سکول جاری کر دیا جائے گا یا مدرسہ احمدیہ کی ایک شاخ کھول دی جائے گی اور یہ کام خصوصاً اس لئے شروع کیا جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس سے تعلق تھا اور حضرت خلیفہ اول تو ایک بلند پایہ طبیب بھی تھے۔غرض طب سلسلہ احمدیہ سے خاص تعلق رکھتی ہے بچپن میں عموماً میری صحت خراب رہتی تھی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم قرآن شریف اور بخاری کا ترجمہ اور طب پڑھ لو۔چنانچہ میں نے طب کی تین چار کتابیں پڑھیں بھی۔تو طب کے متعلق میرا خیال ہے کہ اسے جاری کیا جائے۔فی الحال مبلغین کو طب پڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔اب پانچ پیشے رہ جاتے ہیں۔کیمیا، چمڑے کا کام، لکڑی کا کام، لوہاری اور معماری۔معماری کے کام میں فی الحال میں نے دخل دینا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ معماری کے کام کیلئے خاص انتظام کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لوگ اپنے اپنے طور پر اسے سیکھ سکتے ہیں لیکن اگر موقع ملا تو ہم اسے بھی نظر انداز نہیں کریں گے۔باقی رہ گئے چار کام لوہاری، نجاری ، چمڑے کا کام اور علم کیمیا۔یہ سکول جس کے افتتاح کیلئے آج ہم جمع ہوئے ہیں اس میں تین کام شروع کئے جائیں گے۔ابھی صرف دو جماعتیں کھولنے کا انتظام کیا گیا ہے۔لوہاری اور نجاری۔چمڑے کے کام کی سکیم ابھی زیر غور ہے۔کیمیا کے کام مثلاً ادویہ سازی کے متعلق بھی میں مشورہ کر رہا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ انشَاءَ اللهُ اس کام کو بھی شروع کر دیا جائے۔اس کام کی ایک قسم تو شروع کی ہوئی ہے اور وہ گلاس فیکٹری ہے۔لیکن ایک خاص شکل میں محدود ہے۔کیمیا سازی میں پینٹنگ، پالش وغیرہ سب چیزیں آ جاتی ہیں۔میں اس کے متعلق ماہر فن لوگوں سے مشورہ کر رہا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس میں بھی ہاتھ ڈالا جائے گا۔باقی تین کام جو ہم شروع کرنے والے ہیں اور ان کے ساتھ کپڑ ائینے کا کام بھی لگا دیا جائے تو چار ہو جاتے ہیں ، نہایت ضروری ہیں۔مگر بدقسمتی سے یہ کام ہندوستان میں ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔جب کسی ملک کے زوال کے دن آتے ہیں تو لوگوں کی نیتیں بھی بدل جاتی ہیں۔اگر کسی سے کہہ دیا جائے کہ یہ موچی ہے تو لوگ سمجھیں گے کہ وہ ذلیل کام کرنے والا ہے اور وہ خود بھی اس پیشے کو ذلیل سمجھے گا اور اسے چھوڑ دینے کی خواہش کرے گا۔لوہار اور ترکھان کے پیشے کو بھی ذلیل سمجھا جاتا ہے۔گو وہ موچی کے پیشے کی طرح بد نام نہیں