انوارالعلوم (جلد 14) — Page 181
انوار العلوم جلد ۱۴ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام تعلیم کو اپنا اصول قرار دے لیں جس پر بانی سلسلہ احمدیہ نے بہت زور دیا ہے تو ہمارے آدھے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔اسی سندھ میں بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا ذکر مناسب نہیں مگر ان کی وجہ سے قومی لڑائیاں ہوئیں۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ وہ لڑائیاں عارضی ہوتی ہیں مگر ہم عارضی لڑائی بھی کیوں ہونے دیں۔وہ خدا جو رب العالمین ہے۔ہندوؤں کا بھی ویسا ہی رب ہے جیسا مسلمانوں کا۔عیسائیوں کو بھی اسی طرح روزی دیتا ہے جیسی یہودیوں کو۔کیا یہ ممکن ہے کہ اس نے جسمانی غذا تو تمام اقوام کو پہنچائی ہو لیکن روحانی طور پر راہنمائی کے لئے صرف کسی ایک قوم کو چن لیا ہو۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے بزرگوں کا ادب اور احترام کریں کہ اسی میں ہمارے بزرگوں کا ادب واحترام مخفی ہے۔سندھ ایک نیا صوبہ بنے والا ہے نئے لوگوں کونئی روایات قائم کرنا ہوتی ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ سندھ کے لوگوں میں باوجو د شدید اختلاف مذہب کے تمدنی علمی اور اقتصادی تعلقات میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہو اور وہ یہ سمجھیں کہ ہم سارے خدا کے بندے اور اُس کی مخلوق ہیں۔خدا جس طرح ہندو کی بہتری چاہتا ہے عیسائی کی بھی ویسے ہی چاہتا ہے اور مسلمان کا بھی وہی مالک ہے۔کئی چھوٹے بھائی ہوتے ہیں جو بڑے بھائیوں کے لئے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ علمی ، اقتصادی اور تمدنی تعلقات کو اُس معیار تک بلند کر لو کہ یہ چھوٹا صوبہ بڑا بن جائے اور دوسروں کے لئے نمونہ ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے لئے تو بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت اور ادب و احترام کے لئے صرف اسی ایک تعلیم کا پیش کرنا ہی کافی ہے۔دیکھو! آپ وہ انسان ہیں جنہیں نبیوں کو گالیاں دینے والا کہا جاتا ہے گو آج اس عظیم الشان اور بلند پایہ علیم کی لوگ قدر نہ کریں لیکن ایک زمانہ کے بعد اس کی بہت قدر ہو گی۔دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ بظاہر نبی ناکامی کی صورت میں چلا جاتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد اس کی قدر کرنے والے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ اس بات کو سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ غلطی پر تھے اور یہ کہ ہماری بہتری اور نجات کا یہی ذریعہ تھا جسے ہمارے بزرگوں نے رڈ کر دیا۔بے شک اس بات میں ایک رنج پایا جاتا ہے مگر ہمیشہ اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے کہ ایک مصلح کے وقت میں اُس کی تعلیم کی قدر نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے اسے سخت سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حقیقی کامیابی کے لئے انسان کو ایک صلیب پر چڑھنا پڑتا ہے چنانچہ اسی صلیب پر