انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 179

انوار العلوم جلد ۱۴ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام صلى الله اسے ارد گرد تھے ۔ فرمایا دیکھو! کیسی خطرناک جنگ ہو رہی ہے یہ عورت دیکھ رہی ہے کہ مکہ والے شکست کھا کر بھاگے جا رہے ہیں اور چاروں طرف قتل و خونریزی کا میدان گرم ہے ۔ مگر اس کی نظر میں صرف ایک چیز ہے اور وہ یہ کہ اس کا بچہ مل جائے ۔ ۔ چنانچہ چنا کچھ دیر ر جستجو جستجو کرنے کرنے ۔ کے بعد اُسے اُس کا بچہ مل گیا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئی ۔ تو اُس وقت بھی اپنی خوشی میں اس بات کو بھول گئی کہ لڑائی ہو رہی ہے ۔ رسول رسول کریم علی نے نے یہ نظارہ دیکھا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا۔ تم نے ا۔ دیکھا کہ یہ کیسے اطمینان سے بیٹھی ہوئی ہے پھر فرمایا جس طرح اس عورت کے دل میں اپنے کھوئے ہوئے بچہ کے ملنے سے محبت کے جذبات موجزن ہیں اس سے بدرجہا زیادہ اللہ تعالیٰ کو اپنے کھوئے ہوئے بندہ کے دوبارہ رجوع سے خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ ہے اور یہ ایک عقلی بات ہے اگر چند ماہ تک پیٹ میں رکھنے والی عورت کو اپنے بچہ سے اس قدر محبت ہو سکتی ہے کہ وہ اس کی علیحدگی کو تھوڑی دیر کے لئے بھی گوارا نہیں کر سکتی تو وہ خدا جو انسان کا خالق و مالک اور ربّ ہے کیا یہ ممکن ہے کہ اپنے بندوں کے لئے اس کی محبت اس عورت سے بھی کم ہو ۔ پس جبکہ ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو ماں باپ کے رشتہ سے زیادہ قوی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے آپس کے تعلقات خراب ہوں جبکہ ایک بھائی دوسرے بھائی کا عیب دیکھ کر ذلیل نہیں کرتا بلکہ اُس کی عیب پوشی کرتا ہے اور اُس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً ایک بھائی اگر چور ہے تو دوسرا بے شک اُس کے چوری کے فعل کو تو حقارت کی نظر سے دیکھے گا لیکن بھائی کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ۔ اسی طرح بے شک ہمارا آپس میں اختلاف ہے لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے رشتہ کو محسوس کریں تو جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اچھے اخلاص سے عاری ہو ، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش نہ آئیں ۔ میں یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ سارے مذاہب سچے ہیں ۔ بے شک سارے مذاہب اپنے اصل کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن ایک لمبا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے ان میں ایسی تبدیلیاں ہو گئی ہیں کہ جن کی وجہ سے ان مذاہب کی موجودہ شکل اور ابتدائی شکل میں بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ ہے اور ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ موجودہ صورت میں یہ تمام عقیدے خدا تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں لیکن باوجود اس قد ر اختلاف کے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اِس اختلاف کی وجہ سے آپس میں