انوارالعلوم (جلد 14) — Page 171
انوار العلوم جلد ۱۴ حقیقت حال سکیں گے۔آپ کو یا د رکھنا چاہئے کہ ہر جنگ سے پہلے تنظیم ضروری ہے مگر ابھی تو آپ لوگوں نے تنظیم کا کام ختم کیا شروع بھی نہیں کیا پھر کتنا ظلم ہو گا اگر آپ لوگ قومی طاقت کو ضائع کر لیں۔آپ کی جانیں اور آپ کے مال قومی امانت ہیں۔اس امانت کو بے موقع خرچ کرنا اپنا ہی نقصان نہیں ، قوم پر بھی ظلم ہے۔۲۔دوسرا مشورہ میرا یہ ہے کہ اگر حکام ظلم بھی کریں ، تب بھی آپ لوگ اس کا جواب خود نہ دیں بلکہ قانونی طور پر اس کے ازالہ کی کوشش کریں۔قانونی کوشش لمبی ہوتی ہے لیکن اس کا اثر بہت اعلیٰ پڑتا ہے اور غیر کو بھی اس کا جواب دینے کی جرات نہیں پڑتی۔آخر ایک لمبے تجربہ سے آپ معلوم کر چکے ہیں کہ خود جواب دے کر بھی ظلم کا ازالہ نہیں ہوتا بلکہ ظالم کوظلم کا اور موقع ملتا ہے۔پس کیوں نہ صبر کے ساتھ کوشش کی جائے اور ایک دفعہ ظالم حکام پر اس طرح حجت کر دی جائے کہ پھر ان کیلئے منہ دکھانے کی صورت نہ رہے۔بے شک آپ کا بہت کچھ نقصان ہوا ہے۔لیکن آخر چوری سے ، تجارتی نقصان سے ، طوفان سے اور دیگر حوادث سے بھی تو نقصان ہو جاتا ہے اگر قوم کی خاطر نقصان ہو گیا تو کیوں آپ اس قدر پریشان ہوتے ہیں۔در حقیقت یہ نقصان نقصان نہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک تجارت ہے۔صبر کے نتیجہ میں یہ نقصان آپ کو نفع سمیت واپس ملے گا اور وہ دن دور نہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کی مظلومیت کی فریاد کو سُنے گا اور ظالم زیر کئے جائیں گے اور آپ کو غلبہ دیا جائے گا۔ظلم پہلے کب کامیاب ہوا ہے کہ اب کامیاب ہو گا۔پس ظلم پر صبر کریں یعنی اس کے جواب کیلئے خود ہاتھ نہ اٹھا ئیں بلکہ قانون کے اندر رہ کر ظالم کو سزا دلانے کی کوشش کریں۔۔اور سب کاموں سے زیادہ تنظیم کی طرف توجہ کریں جب تک آپ کے ملک میں تنظیم نہ ہو گی ، کچھ نہ ہو سکے گا۔منتظم ملک پر ڈا کے نہیں ڈالے جا سکتے۔پس آپ اپنے آپ کو منظم ریں مگر تنظیم سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر جگہ ایک انجمن ہو۔یہ امر بھی ضروری ہے اور اب تک یہ کام بھی نہیں ہوا۔لیکن میں تنظیم کے معنی اس سے زیادہ لیتا ہوں تنظیم کے معنی میرے نزدیک یہ ہیں کہ ایک تو سارے ملک میں ہر فرد بشر کو قومی تحریک کا ہمدرد بنایا جائے۔صرف جلسوں کا ہونا کافی نہیں بلکہ ہر شخص کا ممبر ہونا اور ممبری کی علامت کا استعمال کرنا ضروری ہے۔میں نے بار ہا سیاہ بلا لگانے یا ایسا ہی کوئی اور نشان لگانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔لیکن ابھی تک آپ لوگوں نے کوئی نشان قرار نہیں دیا اور نہ اس پر عمل کیا ہے۔حالانکہ جب تک حکومت کو یہ معلوم نہ