انوارالعلوم (جلد 14) — Page 170
انوار العلوم جلد ۱۴ کے شیدا و مولا پھر کونسلوں کی طرف رغبت کر رہے ہیں۔حقیقت حال غرض سول نافرمانی ایک مشتبہ ہتھیار ہے جو دشمن ہی کو نہیں کبھی اپنے آپ کو بھی ہلاک کر دیتا ہے اور اس وقت تک اس کے ذریعہ سے کسی ملک میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔کامیابی یا قانونی تعاون سے ہوئی ہے جیسے کہ آئرلینڈ ، ایران وغیرہ میں۔یالڑائی سے جیسے کہ جرمنی، اٹلی اور ٹرکی میں۔پس اس مضر عمل کی موجودگی میں میں آپ کی کیا امداد کر سکتا تھا۔برطانوی حکام کا ایک ہی جواب تھا کہ جب یہ لوگ قانون تو ڑ رہے ہیں تو حکام سوائے سزا دینے کے اور کیا کر سکتے ہیں۔مگر اس سے پہلے فسادات میں وہ یہ جواب نہیں دے سکتے تھے اور نہیں دیتے تھے کیونکہ اُس وقت ہم انہیں کہتے تھے کہ باوجود اس کے کہ ملک قانون شکنی کے مخالف ہے، حکام خود قانون شکنی کر کے فساد پھیلا رہے ہیں اور برطانوی حکام تحقیق کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔دوسری وقت میرے راستہ میں وہی تھی کہ میں اب صدر نہ تھا۔میں حکام کے کان میں تو بات ڈال سکتا تھا مگر میں کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ مجھے اس کا اختیار نہ تھا اور اس وجہ سے کسی بات کو میں انتہاء تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔اس کے سوا کہ نتیجہ میرے اختیار میں نہ تھا ، میں نے پورے طور پر کوشش کی اور اس میں کمی نہیں کی۔ہاں اپنی کوشش کو شائع بھی نہیں کیا کیونکہ ڈر تھا کہ اُس وقت کے حالات کے ماتحت خود آپ کے لیڈ رہی حکومت کو تاریں دینے لگ جاتے کہ مجھے کشمیر کے متعلق کچھ کہنے کا حق نہیں اور فائدہ کی جگہ نقصان ہی ہوتا۔میں یہ بھی یقین دلا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے کشمیر ایسوسی ایشن کو صاف کہہ دیا ہے کہ جو عہدہ دار بھی منتخب ہوں ، میں اپنی پوری طاقت ان کی امداد کیلئے انشَاءَ اللہ خرچ کر دوں گا اور تبدیل شدہ حالات میں جو کچھ ہو سکتا ہے اس سے مجھے دریغ نہ ہوگا۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک کامیابی کے سرے پر پہنچے ہوئے کام میں روک پیدا ہو گئی ہے۔مجھے اس سے بحث نہیں کہ اس میں کس کا قصور تھا۔بہر حال موجودہ خرابی کو ہم نے دور کرنا ہے اور اس کیلئے میں مندرجہ ذیل مشورہ ان لوگوں کو جو مجھ پر اعتبار رکھتے ، اور میری امداد کی ضرورت سمجھتے ہیں دیتا ہوں۔ا۔کسی قسم کی قانون شکنی نہ کی جائے بلکہ قانون کا پورا احترام کیا جائے۔میں اس وقت اس اصل کی اخلاقی خوبیاں نہیں بیان کرنا چاہتا صرف یہ کہتا ہوں کہ کم سے کم فائدہ اس کا یہ ہو گا کہ قانون شکنی کا الزام لگا کر حکام کو ظلم کرنے کا موقع نہ ملے گا اور آپ لوگ اس عرصہ میں منظم ہو