انوارالعلوم (جلد 14) — Page 156
انوار العلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات ہے کہ عورتوں میں تقریر کرنے والے عام طور پر اونچی آواز والے مقرر نہیں کئے جاتے ۔ دوسرے ان کا پروگرام کبھی بھی صحیح طریق پر نہیں بنایا جا تا اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود اس کا انتظام نہیں کیا جاتا ۔ مثلاً میں نے دیکھا ہے اس سال عورتوں کے جلسہ کیلئے جو پروگرام مقرر تھا ، اس میں تقریروں کیلئے جو عنوان رکھے گئے تھے ان میں سے اسی فیصدی ایسے تھے جو قطعاً نامناسب تھے ۔ پھر وہ عنوان اس قدر مشکل تھے کہ ایک عام آدمی کیلئے فارسی کا سمجھنا آسان ہے لیکن ان عنوانوں کی اردو وہ نہیں سمجھ سکتا ۔ دو عنوانوں کے متعلق تو میں نے بھی معذوری ظاہر کر کے ناظر صاحب دعوت و تبلیغ سے دریافت کیا تھا کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ اور جب میرے ذہن میں ان کا کوئی مفہوم نہیں آ سکتا تھا تو میں نہیں سمجھ سکتا عورتوں کے ذہن میں ان عنوانوں کے متعلق تقریریں سن کر کیا آیا ہوگا ۔ پھر یہ بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا کہ تقریر کرنے والا عورتوں میں تقریر کرنے کے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔ اس کے علاوہ ایک بڑا نقص یہ ہے کہ مروجہ طریق کے مطابق یونہی لکھ دیا جاتا ہے، فلاں کی تقریر ایک گھنٹہ ہوگی ۔ حالانکہ تقریر کرنے والی ایک لڑکی ہوتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پندرہ منٹ تقریر کرنے کے بعد بیٹھ جاتی ہے ۔ اور ۴۵ منٹ عورتوں کو شور مچانے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔ اگر مردوں میں بھی ایک شخص کی تقریر کے بعد ۴۵ منٹ کا وقفہ دے دیا جائے اور وہاں شور نہ ہو تو پھر عورتوں پر الزام عائد ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہاں بھی شور ہو تو معلوم ہوگا کہ اصل نقص پروگرام میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے جلسہ کا پروگرام نہایت ہی بے تو جہی سے بنایا جاتا ہے۔ نہایت بے پروائی سے بنایا جاتا ہے۔ اس میں کسی مصلحت کو مد نظر نہیں رکھا جاتا اور نہ کسی اصل کو مد نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے اور میرے نزدیک اس کی بہت بڑی ذمہ داری ناظر صا۔ ذمہ داری ناظر صاحب دعوت و تبلیغ پر ہے۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو سمجھیں تو آدھے نقص فوراً دور ہو سکتے ہیں ۔ پھر تقریر کرنے والی عورتوں کی آوازیں بھی اتنی اونچی نہیں ہوتیں کہ سب عورتیں بخوبی سن سکیں ۔ ایک سیدہ فضیلت بیگم صاحبہ پریذیڈنٹ لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ ہیں ۔ وہ نہایت اخلاص اور استقلال سے کام کرنے والی خاتون ہیں ۔ ان میں تنظیم کا مادہ بھی پایا جاتا ہے چونکہ ان کی آواز اونچی ہے، اس لئے زنانہ جلسہ گاہ میں جب شور زیادہ ہو تو وہ تقریر کرنے کھڑی ہو جاتی ہیں اور فوراً شور بند ہو جاتا ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ عورتوں میں شور اس لئے ہوتا ہے کہ ان تک آواز نہیں پہنچتی ۔ اس لئے آئندہ زنانہ جلسہ گاہ کے افسر تقریر کرنے والی لڑکیوں کی آوازوں کو بلند کرنے کی کوشش