انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 150

انوار العلوم جلد ۱۴ دنیا کی سیاسیات میں احمدیت کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے؟ کرو بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ لالچ کیوں پیدا ہوتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ لالچ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے یہی دنیا کی زندگی ہے اس کے بعد اور کوئی زندگی نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعث بَعْدَ الْمَوْت پر بڑا زور دیا اور فرمایا ہے زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اَنْ لَّنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ یعنی کا فر کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ اُٹھائے نہیں جائیں گے مگر یہ بالکل غلط ہے۔مجھے اپنے رب کی ہے کہ تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے۔جنگ کا دوسرا محرک یہ ہوتا ہے کہ کوئی قوم اپنا کلچر اعلیٰ سمجھ کر دوسری قوموں میں جاری کرنا چاہتی ہے۔اسلام نے اس سے بھی روکا ہے۔فرمایا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قوم کے اے مومنو! کوئی قوم دوسری قوم کو اپنے تصرف اور دبدبہ کے نیچے اس خیال کے ماتحت نہ لائے کہ میں اس سے اعلیٰ ہوں کیونکہ ممکن ہے اس کی تہذیب کی خامیاں گل ظاہر ہو جائیں۔جنگ کا تیسرا سبب مذہبی برتری قائم کرنا ہوتا ہے قرآن کریم نے اسے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۵ کہہ کر رد کیا اور بتایا کہ اگر ایک مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو اسے لوگوں سے زبردستی منوانا بیوقوفی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو جب خدا تعالیٰ زبردستی نہیں منوا تا تو کسی اور کیلئے کیونکر جائز ہے۔جنگ کا چوتھا سبب حمیت جاہلیت ہے کوئی ایک بادشاہ کی یا وزیر کی ہتک کر دیتا ہے تو لڑائی چھڑ جاتی اور لاکھوں کی جانیں جاتی ہیں۔یہ حمیت جاہلیت اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب طبیعت میں حسد یا غصہ کے جذبات ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمُ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى عداوت ، بغض یا طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ تم دوسروں سے لڑو بلکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔جنگ کا پانچواں سبب یہ ہوتا ہے کہ ایک حکومت دوسری حکومت کے لئے اپنے ملک کے دروازے بند کر دیتی ہے۔یہ مذہبی اغراض کے لئے گو ایک محدود علاقہ کے لئے جائز ہے۔جیسا کہ مکہ مکرمہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا حکم ہے مگر عام طور پر اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ فرماتا ہے تِلْكَ الدَّارُالْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا كَ چھٹا موجب یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو کمزور کر کے اپنے لئے نا جائز فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے یہ بھی منع ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ