انوارالعلوم (جلد 14) — Page 139
انوار العلوم جلد ۱۴ صلى الله تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت أفْوَاجًا لے تو رسول کریم ﷺ نے سمجھا اب میری وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔حالانکہ الہام یہ ہوتا ہے، خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور فتح آ گئی لیکن بجائے اس کے کہ اس الہام کے نازل ہونے پر رسول کریم ﷺ یہ سمجھتے کہ انہیں خوشی کی خبر دی گئی ہے ، آپ سمجھتے ہیں کہ یہ وفات کی خبر ہے۔تو انبیاء اور انبیاء کے زمانہ کے قریب کی جماعتوں کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ قربانیاں کریں اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھتے چلے جائیں۔جب تک یہ زمانہ رہتا ہے، جب تک قربانیوں کی توفیق ملتی رہتی ہے ، اُس وقت تک برکت اور رحمت کا زمانہ رہتا ہے لیکن جب کامیابیاں آجائیں، جب قربانیوں کا موقع جاتا رہے اور جب خدا تعالیٰ کا دین اکناف عالم میں پھیل جائے ، اُس وقت ان برکات کو اٹھا لیا جاتا ہے۔اور بعد میں آنے والوں کی خوشی اسی میں رہ جاتی ہے کہ وہ دُنیوی ترقیات حاصل کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کا ایک اور جگہ نہایت لطیف پیرایہ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فرماتا ہے ہم نے قرآن مجید لیلتہ القدر میں اُتارا ہے۔یعنی قرآن مجید کے اُترنے کا زمانہ ایک رات کے مشابہ ہے۔مگر وہ رات ایسی ہے کہ اس میں سب آئندہ ترقیات کے اندازے مقرر کئے جائیں گے۔لوگ سمجھتے ہیں اس آیت کا صرف یہ مفہوم ہے کہ قرآن مجید پہلے دن لیلۃ القدر میں اُترا۔لیکن اس میں کیا کمال ہے؟ لیلۃ القدر میں بہت سے لوگ نمازیں پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں کرتے رہتے ہیں۔پھر قرآن مجید کی کونسی یہ خصوصیت ہے کہ اسے لیلۃ القدر میں اُتارا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ اس لیلۃ القدر سے نبی کا زمانہ مراد ہے۔وہ زمانہ جب قوم کو قربانیاں کرنی پڑتیں اور مصائب و مشکلات میں سے گزرنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ہم نے قرآن مجید کو اس زمانہ میں نازل کیا جو ایک رات سے مشابہ تھا۔مگر کونسی رات؟ وہ رات جس میں اُمتِ محمدیہ کی تمام ترقیات کا فیصلہ ہونا تھا ، وہ رات جو اس قابل تھی کہ اس کی قدر کی جاتی کیونکہ جتنی لمبی یہ رات ہوگی اتنی زیادہ ترقی اُمت کو ملے گی۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے یعنی ہماری جماعت پر ایک طویل رات کا زمانہ گزر رہا ہے جبکہ دشمن ایک دن کے لطف اُٹھا رہے ہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گو یہ دعا کی ہے کہ سورج چڑھے۔