انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 138

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت جس کی جماعت کو قربانیاں نہ کرنی پڑی ہوں تو پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ میں کہتا ہوں ، وہی صحیح ہے۔اور اگر بغیر قربانیوں کے ہم دنیا میں پھیل جائیں تو میں سمجھتا ہوں دشمن کا یہ حق ہو گا کہ وہ کہے مرزا صاحب بچے نہیں تھے کیونکہ وہ نبیوں کے منہاج پر نہیں آئے۔پس جب تک دنیا ہمارے خون سے رنگین نہ ہو جائے ، جب تک زمین میں ہمارے جسموں کو کچلا نہ جائے ، جب تک ہمیں خدا تعالیٰ کیلئے اپنے وطن نہ چھوڑنے پڑیں ، جب تک دنیا میں ہم اپنی جانی اور مالی اور وقتی قربانیوں سے ایک حیرت انگیز انقلاب پیدا نہ کر دیں اور جب تک ہم وہ ساری قربانیاں نہ کریں جو محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ نے کیں اُس وقت تک ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر کامیابی حاصل ہو جائے گی وہ سلسلہ ما موربیت کو سمجھتا ہی نہیں۔یہ گھونٹ تمہیں ضرور پینا پڑے گا اگر سلسلہ میں رہو گے تو تمہیں زبر دستی پینا پڑے گا۔اور اگر سلسلہ سے نکل جاؤ گے تو پھر تم اس کے ذمہ وار نہیں۔لیکن جس قسم کی نعمت تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے اسے رڈ کرنا کسی نا سمجھ کا ہی کام ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قربانیوں کو نعمت قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں۔منه از بهر ما گرسی که ماموریم خدمت را شاه یعنی میرے اعزاز کیلئے گر سی مت بچھاؤ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے دین کا خادم بنا کر بھیجا ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دین کے خادم بن کر آئے ہیں تو ہم جو آپ کے خادم اور غلام ہیں، ہمیں اپنے متعلق یہ امید رکھنا کہ ہم آرام سے بیٹھے رہیں اور کام بھی ہو جائے ، ایسی امید ہے جو سوائے پاگل کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ہم نے خدا تعالیٰ کے ایک مامور کا زمانہ پایا ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم وہی قربانیاں کریں جو ماموروں کی جماعتیں دنیا میں کیا کرتی ہیں اور یاد رکھو نبیوں اور نبیوں کے زمانہ کے قریب کی جماعتوں کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ قربانی کریں اور بعد میں آنے والوں کی خوشی اس میں ہوتی ہے کہ انہیں روپیہ ملے۔نبیوں کے زمانہ کے قریب کی جماعتیں اس بات پر خوش ہوتی ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دیں اور بعد میں آنے والے لوگ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانیں بچا ئیں۔یہ ایک ایسا گھلا فرق ہے جو ہر شخص کو نظر آ سکتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ