انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 137

انوار العلوم جلد ۱۴ کریں گی۔تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت وہ مصائب جن میں سے سلسلہ گزر چکا یا گزر رہا ہے ایسے ہیں کہ زبان پر بھی نہیں لائے جا سکتے۔وہی لوگ ان مصائب کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے مجھ سے باتیں سنیں۔لیکن میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت اس سکیم پر عمل کرے تو اس کا دوسرا قدم پہلے سے بہت زیادہ آگے بڑھے گا۔میں نے شکایت کی ہے کہ آپ نے اس سکیم پر پوری طرح عمل نہیں کیا۔لیکن باوجود اس کے جس قدر عمل آپ لوگوں نے کیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ شدید سے شدید دشمنوں کے مرکزوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ نے موجودہ حملہ سے پوری طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے۔مجھے احرار کے ایک بہت بڑے لیڈر کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اُس نے اپنی ایک مجلس میں کہا۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ احرار نے قادیانیوں کا کیا مقابلہ کیا۔آٹھ کروڑ مسلمان احرار کی پشت پر تھے اور قادیانی بالکل تھوڑے تھے ، مگر احرار کچھ نہ کر سکے۔لیکن ہم کیا کریں اگر ہمارا مقابلہ آدمیوں سے ہوتا تو ہم انہیں شکست دے دیتے۔ہمارا مقابلہ تو ایک غیر معمولی دماغ سے ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے وہ تجویز میں بتائی ہیں کہ ان پر اگر عمل کیا جائے تو قلیل ترین جماعت کبھی بڑی سے بڑی جماعت سے بھی ہار نہیں کھا سکتی۔پس اگر باوجودان باتوں کے ہماری جماعت کے لوگ اس طرف توجہ نہ کریں تو اس کے صاف یہ معنی ہوں گے کہ یا تو وہ سلسلہ کو چھوڑنا چاہتے ہیں یا عقل و سمجھ سے بالکل کو رے ہیں۔مگر نہ تو میں یہ امید کرتا ہوں کہ لوگ اپنے دل میں یہ خیال کرتے ہوں کہ جب فساد بڑھا ہم سلسلہ کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں گے اور نہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔اور اگر وہ سمجھتے بھی ہیں اور منافق بھی نہیں تو میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر پہلے کسی نبی کے زمانہ میں قربانیوں کی ضرورت تھی، اگر پہلے کسی مامور کے زمانہ میں اپنے مالوں، اپنی جانوں ، اپنے وطنوں ، اپنے آراموں اور اپنی آسائشوں کو قربان کر دینے کی ضرورت تھی تو آج بھی ان قربانیوں کی ضرورت ہے۔اور اگر تم کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش کر دو کہ کسی نبی اور مامور کی جماعت نے قربانیوں کے بغیر ترقی کی تو میں آج اپنی غلطی کا اقرار کرنے اور اپنی سکیم کو واپس لینے کیلئے تیار ہوں۔لیکن اگر سب انبیاء کے وقت قربانیاں کرنی پڑیں اگر آدم سے لے کر محمد تک خواہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے یا کم یا زیادہ، ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں