انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 108

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور تو اور کوئی معزز ہے مگر میرے نزدیک اور۔جو خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو گا در حقیقت ہمارے نزدیک بھی وہی معزز ہونا چاہئے۔اور جب خدا تعالیٰ کے نزد یک انقی معزز ہے اور وہ ایک غریب بھی ہو سکتا ہے تو یقیناً ہماری روش اور ہمارے طریق میں غریب ہی معزز ہونا چاہئے۔اور اگر ہم یہ نہیں کرتے تو ہم کسی اور کو عزت دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کسی اور کو معزز کہتا ہے۔یہ نقص تبھی دور ہو سکتا ہے جب امارت اور غربت کے ظاہری امتیا ز کو ہم مٹا دیں۔اس امتیاز کے قائم رہنے سے دوسرا نقص یہ واقعہ ہوتا ہے کہ غریب اور امیر میں ایسی وسیع خلیج حائل ہو جاتی ہے کہ وہ دونوں مل کر کام نہیں کر سکتے۔جیسے دو بیل ہوں اور دونوں کا الگ الگ رنگ ہو لیکن اگر ایک جوئے کے نیچے ان کی گردنیں رکھ دی جائیں تو وہ خوب کام کر لیتے ہیں۔لیکن ایک بھینسے کے دو بچے اگر میل میل کے فاصلہ پر کھڑے ہوں تو وہ کام نہیں کر سکتے۔تو غربت اور امارت کے امتیاز کو جب تک ہم مٹا نہ دیں اُس وقت تک جماعت متحدہ طور پر کام نہیں کر سکتی۔مثلاً ایک کھانا کھانے اور سادہ لباس پہننے میں یہ بھی حکمت ہے گو اور بھی اس میں حکمتیں ہیں مگر ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس طرح امارت اور غربت کا امتیاز جاتا رہتا ہے۔اگر ہم لباس بہت اعلیٰ قسم کا پہنیں اور اپنی شان کو خاص طور پر لوگوں پر ظاہر کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک غریب ہماری دعوت کرنے سے گھبرائے گا وہ کہے گا میں اگر فلاں امیر کی دعوت کروں تو میرے گھر میں تو بوریا بھی نہیں وہ بیٹھے گا کہاں۔اس کے تو کپڑے میلے ہو جائیں گے۔یا اگر دعوت کروں تو کس طرح کروں۔یہ تو گھر میں روز چار چار کھانے کھاتا ہے۔اگر میں صرف اس کیلئے پلاؤ بھی پکا دوں تو اس کے چاول تو اس کے گلے میں پھنسیں گے۔پس وہ دعوت کر نے سے ہچکچاتا ہے اور اس طرح امراء وغرباء میں ایک امتیاز قائم رہتا ہے۔لیکن اگر معلوم ہو کہ امیر آدمی بھی گھر میں ایک ہی کھانا کھانے کا عادی ہے تو غریب سمجھتا ہے ایک کھانے کا کیا ہے وہ تو میں بھی تیار کرلوں گا اور اس طرح وہ زیادہ دلیری سے ایک امیر کی دعوت کر لے گا۔پھر اگر یہ پابندی نہ ہوتی تو بعض لوگ خود تقاضا کر کے دعوتوں میں چیزیں پکواتے۔اور اس کا مجھے اس لئے خیال ہے کہ میں نے کئی احمدیوں کے منہ سے بھی سنا ہے، جب ان کی کوئی دعوت کرے تو وہ کہہ دیتے ہیں، کیا کیا کھلاؤ گے ؟ ایک دعوت میں میں ایک دفعہ شامل ہوا، ایک مدعوصاحب میرے ساتھ تھے ، جب دعوت کھانے بیٹھے تو بے اختیار کہنے لگے پلاؤ کے بغیر دعوت عجیب لگتی ہے۔میز بان سامنے بیٹھا تھا۔میں نے سمجھا یہ الفاظ سن کر وہ اپنے میں کٹ ہی گیا ہو۔