انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 99

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ممکن تھا ان میں سے جو مرتا اس کے متعلق کہ دیا جاتا کہ یہ مباہلہ میں شامل نہیں تھا۔اس طرح جو مرتا جاتا وہ مباہلین سے نکلتا جاتا اور جو رہ جاتے ان کے متعلق کہہ دیا جا تا کہ یہ مباہلہ میں شامل تھے مگر مرے نہیں۔بھلا یہ بھی کوئی مباہلہ کا طریق ہے۔اس طرح ممکن ہے ایک شخص کے متعلق مجھے بتایا جائے کہ یہ میاں عبداللہ ہیں بٹالہ کے رہنے والے ہیں اور یہ بھی مباہلہ میں شامل ہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام عبد اللہ نہ ہو بلکہ حمید اللہ ہو اور جب سال کے بعد نتیجہ دیکھنے کیلئے انسان تلاش کرے تو کہہ دیا جائے حمید اللہ مرا ہے شامل تو عبد اللہ ہوا تھا تو یہ ایسی حماقت کی بات ہے جسے کوئی تسلیم نہیں کر سکتا اور ہر قند کو مانا پڑتا ہے کہ شرائط کے طے کئے بغیر مباہلہ کرنا بیوقوفوں کا کام ہے۔مگر ان کی تو یہ غرض ہی نہ تھی، ان کی غرض اگر تھی تو یہ کہ قادیان جمع ہونے کی صورت نکل آئے اور وقت پر مباہلہ سے انکار کر کے اپنی کا نفرنس منعقد کر لی جائے۔مثلاً اسی شرط کا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے مظہر علی صاحب اظہر نے جو جواب دیا وہ یہ ہے کہ ہم قادیان پہنچ کر ایک دن پہلے مباہلین کی فہرست دے دیں گے حالانکہ اگر وہ ایک دن پہلے فہرست دیں تو مباہلین کی تحقیق کس طرح ہو سکتی ہے۔ممکن ہے ایک شخص کے متعلق لکھا ہو کہ یہ گجرات کا رہنے والا ہے۔مگر مجھے کیا پتہ ہو سکتا ہے کہ یہ گجرات کا ہے یا نہیں۔اس کی مجھے تحقیق کرنی چاہئے اور اس صورت میں پندرہ بیس دن چاہئیں تا کہ گجرات کے دوستوں کو لکھ کر دریافت کیا جائے کہ آیا اس نام کا کوئی آدمی گجرات میں رہتا ہے یا نہیں اور آیا اس نے اپنا نام مباہلہ کیلئے دیا ہے یا کسی اور کو اس کے نام پر پیش کر دیا گیا ہے۔غرض ان تمام خدشات کے ازالہ کیلئے ضروری تھا کہ پندرہ میں دن پہلے فہرستیں مل جاتیں تا ہم ہر شخص کے متعلق تحقیقات کر سکتے۔اور پھر یہ بھی پتہ لگا لیتے کہ آیا وہ واقعی مباہلہ کیلئے تیار ہے یا نہیں۔ممکن ہے ایک شخص کا یونہی نام لکھ دیا جائے حالانکہ وہ مباہلہ کیلئے تیار نہ ہو۔یا ایک سے زیادہ کا نام خانہ پری کے طور پر درج کر دیا جائے مگر مباہلہ کے موقع پر وہ بھاگ جائیں اور اس طرح مقررہ تعداد میں کمی آ جائے۔غرض ضروری تھا کہ مباہلین کے پندرہ بیس دن پہلے نام ملیں اور ان کے متعلق یہ تحقیق کر لی جائے کہ وہ فرضی نام تو نہیں اور پھر مباہلین کی شکلیں پہچان لی جائیں۔تاجب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو تو کسی قسم کا اشتباہ واقعہ نہ ہو۔اس صورت میں ممکن تھا جس جس جگہ کے غیر احمدی مباہلین ہوتے، وہاں کے احمدیوں کو ہم بلوا لیتے اور کہتے ان کی شکلیں پہچانتے جاؤ اور انہیں یاد