انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 76

انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان بعد حکومت کا خاموش رہنا اپنے قانون کو خود توڑنے کے مترادف ہو گیا اور وہ میری اس گرفت کی وجہ سے اپنے بنائے ہوئے قانون کے احترام پر مجبور ہوگئی اور اس طرح گویا مولوی صاحب کی گرفتاری کا باعث ایک قادیان کا شخص ہو گیا اور جو لوگ بعض عذرات کی بناء پر قدم پیچھے ہٹانا چاہتے تھے، ان کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔سو دُبلے پتلے شخص سے حکومت کا کوئی ایسا نمائندہ بھی مراد ہو سکتا ہے جو احرار کی گرفتاری پر دل میں رضامند نہ تھا لیکن اس سے علم تعبیر کے مطابق حکومت کا وہ مذبذب رویہ بھی ہوسکتا ہے جو حکومت کی طرف سے میرے اس اعلان سے پہلے کہ جب تک شرائط طے نہ ہوں میں ہرگز قادیان میں مباہلہ کیلئے تیار نہیں ہوں اور یہ کہ اگر شرائط طے کئے بغیر احرار قادیان میں آئے تو وہ مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے بلکہ اور کسی غرض کیلئے آئیں گے، ظاہر ہورہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام شاید کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اس رؤیا میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ذات پر حملہ سے مراد اپنی ذات پر حملہ دیکھا ہے اور تم جس واقعہ کا ذکر کرتے ہو یہ آپ کی وفات کے بعد کا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی سنت کے مطابق خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی بعض پیشگوئیاں ان کے بعد ان کے خلفاء کے ہاتھ پر پوری ہوتی ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ رویا میں آپ نے دیکھا کہ قیصر و کسری کے خزانہ کی کنجیاں آپ کے ہاتھ میں دی گئی ہیں لیکن یہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آئیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ مامور کبھی کشف میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے مگر مراد اس سے اس کی جماعت ہوتی ہے۔پیشگوئی نہایت بین طور پر پوری ہوئی اب میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے پھر ان سب لوگوں سے جن کے ہاتھ تک میرا یہ اشتہار پہنچے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس زبر دست نشان پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ انسانی دماغ کا اختراع ہوسکتا ہے؟ کیا کوئی بندہ اتنا عرصہ پہلے ایسی تفصیلی خبر دے سکتا ہے؟ بے شک دشمن سو قسم کے اعتراض پیدا کر لیتا ہے۔لوگوں نے ہر رسول کے متعلق شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور رسول تو الگ رہے خود اللہ تعالیٰ کی ذات