انوارالعلوم (جلد 14) — Page 74
انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان سے اس وہم میں دوبارہ مبتلا ہو جائے گی کہ شاید یہ جماعت اپنی حکومت قائم کر رہی ہے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ اور حکومت میں تفرقہ اور جُدائی پیدا ہو جائے گی۔پھر کون کہہ سکتا تھا کہ ۱۹۳۴ء کے پہلے حملہ کے بعد دوبارہ حملہ پہلے حملہ سے مختلف حالات میں ہوگا اور اس دفعہ وہی شخص حکومت اور احمدیوں میں تفرقہ ڈلوانے کیلئے نہیں بلکہ احمدیوں کو مسلمانوں کی نگاہ میں ذلیل کرنے کیلئے اور ان کی عزت کو خاک میں ملانے کیلئے دوبارہ حملہ کرے گا۔پھر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ دوسرا حملہ باوجود اس کے کہ احرار کے دوسرے لیڈر موجود تھے اور باوجود اس کے کہ پہلے سال کی کانفرنس کے حملہ آور یعنی صدر کی بیوی بیمار تھی ، پھر اسی کے سپرد کیا جائے گا۔اور پھر کون کہ سکتا تھا کہ اس دوسرے حملہ کے وقت حالات ایسے ہوں گے کہ وہ حملہ قانونی مُجرم بھی بن جائے گا اور پھر کون کہہ سکتا تھا کہ اس وقت حکومت کا ایک نمائندہ چھریرے بدن کا ہو گا۔پھر کون کہہ سکتا تھا کہ وہ نمائندہ اس کام میں حقیقی ہمدردی نہ رکھتا ہو گا۔اور پھر کون کہہ سکتا تھا کہ قادیان کا ایک باشندہ اُس وقت آگے آئے گا اور ان تمام غذ رات کو جن کی وجہ سے حکومت اپنے نوٹس کو واپس لے سکتی تھی ، تو ڑ دے گا اور گرفتاری کو ناگزیر بنا دے گا۔پھر بتاؤ کہ کون کہ سکتا تھا کہ آخر جب دوبارہ حملہ کر کے آنے والے شخص کو گرفتار کر لیا جائے گا اور وہ عدالت میں حاضر کیا جائے گا تو عدالت برخلاف عام عادت کے اس کے مقدمہ کی سرسری سماعت کرے گی اور پھر میں پوچھتا ہوں کہ کون ۱۹۰۲ء میں یہ بتا سکتا تھا کہ پھر عدالت اس دوبارہ حملہ کر کے آنے والے شخص کو جاتے ہی سزا بھی دے دے گی اور وہ سزا چار ماہ کی قید ہوگی۔اے وہ لوگو! جو خواہ ہندو ہو، خواہ مسلمان، ہر مذہب کے لوگوں سے اپیل خواہ عیسائی ، خواہ سکھ ، دیکھو تمہارے زندہ خدا نے ایک زندہ نشان دکھایا ہے۔اس پر غور کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے ادب سے جھک جاؤ کہ وہ اپنے نشانوں کے ذریعہ سے تم کو بلاتا ہے تائم کو روحانی زندگی دے اور تمہاری روحانی موت کو حیات سے بدل دے۔دیکھو تم نے مرنے کے بعد نہ احرار کے سامنے پیش ہونا ہے نہ اپنے مولویوں، پنڈتوں، پادریوں یا گیانیوں کے سامنے ،تم نے اپنے پیدا کرنے والے قادر خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔پھر تم اسے کیا جواب دو گے کہ ہم نے نشان پر نشان دیکھے مگر پھر بھی صداقت کو قبول نہ کیا۔