انوارالعلوم (جلد 14) — Page 558
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر الصُّرَيمِي المعروف بالبرک کو معاویہ کے قتل کیلئے اور عمر و بن بکر التمیمی کو عمر و بن عاص کو قتل کرنے کیلئے مقرر کیا۔حضرت علی صبح کی نماز کے وقت لوگوں کو نماز میں شامل کرنے کیلئے محلہ میں چکر لگایا کرتے تھے۔۲۱۔رمضان کو صبح کے وقت جب آپ محلہ کا چکر لگا رہے تھے تو عبد الرحمن نے ان پر حملہ کیا اور تلوار مار کر سر کو شدید زخمی کر دیا۔حضرت علی کو جب یہ زخم لگا تو آپ نے فرمایا فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔یعنی زخم ایسا کاری لگا ہے کہ اب اس سے جانبر نہیں ہو سکتا۔پھر آپ نے فرمایا اس شخص کو پکڑ لو۔اُس نے دوسرے مسلمانوں پر بھی حملہ کیا مگر مغیرہ بن نوفل نے اس پر اپنی چادر ڈال دی اور پھر اُٹھا کر زمین پر دے مارا اور دوسرے لوگوں نے باندھ لیا۔جب حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ اے امیر المؤمنین ! اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا اگر میں زندہ رہا تو خود فیصلہ کروں گا اور اگر مر گیا تو تمہاری جس طرح مرضی۔آخر تیسرے دن آپ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔بُرک نے حضرت معاویہ پر اسی تاریخ کو حملہ کیا لیکن چونکہ ان کا پہرہ مضبوط تھا اور شام میں رہنے کی وجہ سے وہ بڑے محتاط تھے اور ہمیشہ اپنے ارد گرد پہرہ رکھتے اس لئے وہ آدمی اپنے حملہ میں ناکام رہا۔انہیں صرف معمولی زخم لگا۔یعنی آپ کے سرین کی ایک چھوٹی سی رگ کاٹی گئی۔اس سے زیادہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوئی اور بُرک پکڑا گیا۔(ضمناً اس جگہ میں یہ بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہاں نماز کے وقت جو پہرہ ہوتا ہے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بھی بعض لوگ اعتراض کیا کرتے تھے جو اب مصری پارٹی میں شامل ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بھی ایسے ہی ناپاک ارادے تھے اور وہ یہ دیکھ دیکھ کر جلتے تھے کہ پہرہ کی وجہ سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے مگر جیسا کہ آپ لوگوں کو اس واقعہ سے معلوم ہو گیا ہوگا حضرت معاویہ بھی پہرہ رکھا کرتے تھے اور کوئی ان پر اعتراض نہیں کرتا تھا ) عمر و بن عاص اُس دن بیمار تھے اور وہ نماز کو گئے ہی نہیں لیکن اُن کے گھر سے اُس وقت ایک شخص خارجہ بن ابی حبیبہ نکلا جسے عمر و بن بكر التمیمی نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہی عمرو بن عاص ہیں قتل کر دیا۔جب اسے پکڑ کر لوگ عمرو بن عاص کے پاس لے گئے اور اس نے دیکھا کہ جو شخص وہاں آتا ہے وہ کہتا ہے اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! تو وہ آنکھ اُٹھا کر کہنے لگا۔میں نے کس کو مارا ہے کیا میں نے عمرو بن عاص کو نہیں مارا ؟ جب لوگوں نے اُسے بتایا کہ نہیں بلکہ تو نے