انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 19

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے تک وہ پھٹ نہ جائیں اور نہ بنائیں اور جب بنوائیں تو کم بنوائیں۔اسی طرح عور تیں بھی محض پسندیدگی کی وجہ سے کپڑا نہ خریدیں اور جب ضرورت ہو تو ستا خریدیں۔زیورات کے متعلق میں نے ہدایت کی تھی کہ ان کا بنوانا بند کر دیں سوائے شادی بیاہ کے اور شادی بیاہ میں بھی پہلے سے کمی کریں ہاں ٹوٹے پھوٹے کی معمولی مرمت ہو سکتی ہے۔پھلوں کے متعلق میں نے کہا تھا کہ یہ چونکہ صحت کے لئے ضروری ہیں، اس لئے میں گھی طور پر تو ان کی ممانعت نہیں کرتا مگر حتی الوسع کم استعمال کئے جائیں۔بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو ہم نے یونہی اپنے ساتھ لگا رکھی ہیں۔اس سال ہم برف کا استعمال نہیں کرتے اسی طرح اس سال سوڈے کی مفت تو بوتل میں نے پی ہے مگر خرید کر نہیں پی۔مہمان نوازی کے طور پر کسی نے پلا دی تو پی لی۔پھر میں نے کہا تھا کہ سینما، تھیٹر ، سرکس وغیرہ چیزوں سے گلی پر ہیز کیا جائے ، نوجوان کثرت سے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے ان کو خصوصیت سے میں نے توجہ دلائی تھی اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے اکثر نو جوانوں نے اسے چھوڑ دیا ہے اور بعض جو کثرت سے اس کے عادی تھے اب اس سے نفرت کرتے ہیں۔مگر جو اس بارہ میں غفلت کر رہے ہیں، اُن کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ سوائے آفیشل تقاریب کے باقی خواہ کیسے بھی حالات ہوں ، وہ ہرگز ان تماشوں میں نہ جائیں حتی کہ مُفت بھی نہ دیکھیں۔پھر میں نے آرائش مکان کے متعلق نصیحت کی تھی کہ اس پر بھی روپیہ ضائع نہیں ہونا چاہیئے۔علاجوں کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر کم قیمت علاج کریں اور دوست بھی قیمتی ادویہ کے پیچھے نہ پھریں تا ناواجب خرچ نہ ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ آج چھ ماہ کے بعد دوست پھر ان باتوں کو پورا کرنے کا اقرار کریں گے اور اپنی زندگیوں میں عمدہ نمونہ دکھانے کی کوشش کریں گے۔پھر میں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہر احمدی تبلیغ کی کوشش کرے اور دو دو ماہ وقف کر دے مگر بہت کم لوگوں نے اس طرف توجہ کی ہے جن کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں اور ان میں سے بھی بہت سے قادیان کے ہیں حالانکہ اگر ہم اس حد تک بھی کوشش نہ کریں جس حد تک ہمارے اختیار میں ہے تو یہ کس قدر افسوس کی بات ہوگی۔لوگوں کے کانوں تک تبلیغ کا پہنچا دینا ہمارے ذمہ ہے ور نہ اگر ہم اس ذریعہ کو بھی استعمال نہ کریں تو ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ایک مطالبہ زندگیاں وقف کرنے کا تھا اس کا جواب بھی اگر چہ کوئی زیادہ شاندار نہیں تاہم سینکڑوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے کہ جہاں چاہیں بھیج دیا جائے۔ان میں