انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 470

انوار العلوم جلد ۱۴ جوا خوشی سے اپنی گردن پر اُٹھانا چاہئے۔قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض قرآن کریم ہمیں اپنی زندگی کو صحیح طور پر صرف کرنے کیلئے ایک اصولی اصولی ہدایت ہدایت دیتا ہے جو یہ ہے۔لَيْسَ الْبِرُّبانُ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ 1 ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَعْتَدِينَ کے ان آیات سے مندرجہ ذیل سات امور کا استنباط ہوتا ہے۔پہلی بات اس آیت سے یہ مستنبط ہوتی ہے کہ غیر شرعی طریق سے جائزہ غیر شرعی طریق سے جائز کام بھی ناجائز ہو جاتا کام بھی ناجائز ہو جاتا ہے ہے کیونکہ فرماتا ہے کہ اپنے گھروں میں جن میں داخل ہونے کا تم کو ہر وقت اور پورا اختیار ہے ان میں بھی اگر تم دیوار میں پھاند پھاند کر داخل ہو تو یہ امر خدا تعالیٰ کے نزدیک نیکی نہیں سمجھا جائے گا۔اس مثال سے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کام کے لئے ایک راستہ بتایا ہے اگر تو انسان اس راستہ سے اس کام کو کرتا ہے تو اس کا کام نیکی قرار دیا جائے گا لیکن اگر کام نیک ہو مگر اس کے کرنے کا طریق غلط ہو تو پھر وہ عمل نیک نہیں رہے گا۔مثلاً نماز ایک نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص بغیر وضو کے نماز پڑھے یا پہلے نماز پڑھ لے اور بعد میں وضو کرے یا بے وقت نماز پڑھے تو باوجود اس کے کہ وہ نماز پڑھے گا جو ایک عبادت ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکے گا بلکہ ایک بدی کا مرتکب ہوگا۔بعینہ اسی طرح اظہار غضب ہے۔اللہ تعالیٰ نے غیرت کو ایک نیکی قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ خود بھی نہایت غیرت مند ہے اور وہ بُری باتوں پر اظہارِ غضب بھی کرتا ہے لیکن غیرت کے جائز موقع پر بھی اگر کوئی شخص غیرت کا اظہار غلط طریق پر کرے اور شریعت جس موقع پر غضب کی اجازت دیتی ہے غضب تو اسی موقع پر ظاہر کرے لیکن اس کا طریق بدل دے تو یہ گناہ ہو جائے گا۔مثلاً شریعت اظہار غیرت یا اظہارِ غضب کا یہ طریق بتائے کہ اس جگہ سے مومن اُٹھ جائے مگر مومن بجائے وہاں سے اُٹھ کر چلے جانے کے لڑنے لگے تو شریعت اس مومن کو بھی گناہ گار قرار دیگی۔دوسری بات جو اس آیت سے نیک کام کو نیک راہ سے بجالانا چاہئے محبوبہ ہوتی ہے یہ ہے کہ نیکی تقوی مستنبط کا نام ہے یعنی نیک کام کو نیک راہ سے بجالا نا۔