انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 469

قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض انوار العلوم جلد ۱۴ دیکھنا اس کے اندر اشتعال پیدا کرتا ہے اور نہ وہ کسی خلاف قانون حرکت کا ارتکاب کرے اور اُس وقت واپس آئے جب وہ محسوس کرے کہ اس کے اُبھرے ہوئے جذبات دب گئے ہیں اور اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے، اگر اشتعال میں آنے والے دوست اس پر عمل کریں تو یقیناً وہ ابتلاء سے محفوظ ہو جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ ٹھنڈا پانی پی لے، اگر وہ چل رہا ہو تو کھڑا ہو جائے اور اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے کے اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ غصہ کی حالت کو اگر بدل دیا جائے تو غصہ بھی بدل جاتا ہے اور پھر مومن کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ مومن کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔اگر مومن قانون کو ہاتھ میں لیں تو کیا ان کے ایسا کرنے سے فساد دُور ہو جائے گا۔اِس کا نتیجہ تو صرف یہ نکلے گا کہ ایک مخالف کی جان کو ضائع کرنے میں مومن کی قیمتی جان بھی ضائع جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ پر سب سے گراں کام مومن کی جان نکالنا ہوتا ہے۔پس جس جان کی قیمت اس قدر زیادہ ہوا سے ایک مخالف کی جان لینے کی خاطر کیوں ضائع کیا جائے سوائے اس کے کہ باقاعدہ جہاد میں ایسا کرنا پڑے۔غرض کسی نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھو ایسے اعمال نا پسندیدہ ہیں اور اس بارہ میں سب مشبہات غلط نہی یا قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔پس دوستوں کو اپنے لئے بھی اور عزیز احمد کیلئے بھی استغفار کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے گناہوں کو معاف کرے اور خلاف شریعت اعمال سے محفوظ رکھے۔ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا قرآن ہمارے لئے کامل ہدایت نامہ ہے چاہئے کہ سلسلہ احمدیہ کے قیام کی اصل غرض قرآنی حکومت کا قیام ہے۔اگر ہم اس غرض کو خود اپنے اعمال سے باطل کریں تو ہم سے زیادہ شقی کوئی نہیں ہو سکتا جو سپاہی اپنی ہی فوج پر حملہ کرے اس سے کیا فائدہ ا اور جوسرنگ اپنے ہی قلعہ کو اُڑائے اس سے زیادہ خطرناک اور کیا شے ہوسکتی ہے۔ہمیں ایک فیصلہ کر لینا چاہئے کہ آیا قرآن ہر حالت کے لئے اور ہر زمانہ کیلئے ہدایت نامہ ہے یا نہیں۔اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اپنے سب اعمال اس کے تابع کر دینے چاہئیں اور اگر نہیں تو پھر ہمیں جائز نہیں کہ ہم دنیا کو دھوکا دیں اور کہتے پھریں کہ قرآن کامل کتاب ہے ، قرآن کامل کتاب ہے۔اگر وہ کامل کتاب ہے تو ہمیں اپنے عمل سے اس کی تصدیق کرنی چاہئے اور اس کی اطاعت کا