انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 453

انوار العلوم جلد ۱۴ موجودہ فتنہ میں کفر کی تمام طاقتوں کا ہمارے خلاف اجتماع۔۔طرح ملائکہ کے متعلق بھی خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ ملاء اعلیٰ میں وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے تھے کے یہ تمام روحانی نمائندے ہیں جن کا ملاء اعلیٰ میں دخل ہے۔خدا تعالیٰ ان سے مشورہ لیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے آراء پیش کرتے ہیں لیکن وہ آراء بھی الہی تصرف کے ماتحت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان آراء کے مطابق اپنی رحمت کی بارش ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو ارواح کا ملہ سے مشابہت رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی بہت سے رویا ہیں جن میں آپ نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح یا حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی رُوح ان فتنوں کو دیکھ کر تڑپ رہی ہے جو اس زمین پر پیدا کئے جاتے ہیں۔پس جب ان ارواح کا ملہ کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو وہ اپنے نمائندے چن لیتی ہیں جو شیطان کے نمائندوں سے جنگ کرتے ہیں۔پس اصل جنگ شیطان اور فرشتوں کے درمیان ہوتی ہے یا ابلیس اور جبریل کے درمیان۔اور قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں نہایت ہی زیرک ہستیاں ہیں۔گوشیطان تمام بدیوں کا مجسمہ ہے اور اس پر ہزاروں لعنتیں ڈالی گئی ہیں لیکن اس کے اپنے جنگ کے معاملہ میں جہاں قرآن کریم میں اس کی زیر کی کا ذکر آیا ہے ، اس کی تعریف کی گئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے شیطان کا حضرت آدم علیہ السلام سے واسطہ پڑا اور پہلی دفعہ حضرت آدم کے وقت میں اُس نے اپنی زیر کی کا ثبوت دیا۔جانے دوا بلیس کے ساتھیوں کو، جانے دوان لوگوں کو جو شیطان کے پیر وہیں چلے جاؤ اُن مسلمان کہلانے والوں میں یا ان لوگوں میں جو قرآن کریم کو آخری شریعت یقین کرتے ہیں تم انہیں یہ کہتے سنو گے کہ دیکھا ! ابلیس کی بات صحیح نکلی اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اس نے جو یہ کہا تھا کہ انسان دنیا میں برائیوں کا شکار ہو جائے گا اور شرک وغیرہ میں مبتلاء ہوگا وہ درست ثابت ہوا۔میں نے خود سینکڑوں دفعہ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کیا ابلیس کی بات ٹھیک نہ نکلی ؟ اور جو اس نے کہا تھا وہ صحیح ثابت نہ ہوا؟ اور بظاہر یہ معلوم بھی ہوتا ہے کہ انسان ان غلطیوں اور لغزشوں کا شکار ہو گیا جن کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ ان میں مبتلاء ہو جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جب چاروں طرف شرک، دھوکا، فریب، بے ایمانی ، بددیانتی، چوری، ڈاکہ، جعلسازی ، اور فسق و فجور دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ شیطان کی بات درست ثابت ہوئی اور خدا تعالیٰ کا بہ