انوارالعلوم (جلد 14) — Page 425
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ مجھے جو نوے روپے دیئے تھے وہ ایک پچاس روپیہ اور چار دس دس روپیہ کے نوٹوں کی صورت میں تھے۔جب یہ رقم ڈاکٹر احسان علی صاحب میرے پاس لائے۔مجھے علم تھا کہ ڈاکٹر فضل دین صاحب کی چوری میں نوے روپے کے قریب رقم ہے۔چنانچہ میں خود ڈاکٹر صاحب کے مکان پر گیا اور اُن سے نوے روپیہ کی تفصیل دریافت کی۔انہوں نے کہا کہ چوری شدہ رقم نوے روپیہ سے کچھ کم تھی اور کہ وہ دس دس اور پانچ پانچ کے نوٹ تھے۔اس اختلاف کی بناء پر میں نے خیال کیا کہ یہ ڈاکٹر صاحب کی چوری کا روپیہ نہیں۔) میاں صاحب کا بیان آپ سن چکے ہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کو چاہئے تھا یہ روپیہ اپنے پاس نہ رکھتے بلکہ ناظر صاحب امور عامہ کے پاس جمع کرا دیتے۔میری طرف سے امور کیلئے وہ نہیں بلکہ ناظر صاحب امور عامہ مقرر ہیں۔ڈاکٹر احسان علی صاحب نے بھی جب اپنی بریت میں میاں صاحب کے پاس روپیہ کا رکھ دینا بیان کیا تھا تو میں نے ان سے یہی کہا تھا کہ میں اس دلیل کو نہیں مانتا۔ہاں اگر ناظر صاحب امور عامہ کے پاس یہ رقم رکھی جاتی تو البتہ ایک دلیل تھی۔ڈاکٹر احسان علی صاحب کا یہ طریق طبہ ڈالنے والا ہے اور میاں صاحب نے بھی غلطی کی اور غلط اجتہاد سے کام لیا اور اس طرح دوسرے فریق کو بدظنی کرنے کا موقع بہم پہنچایا۔نظام میں ان کی حیثیت جب ان کو یہ روپیہ رکھنے کیلئے مجاز قرار نہ دیتی تھی تو ان کو نہیں رکھنا چاہئے تھا اور ناظر صاحب امور عامہ کے پاس ہی جو میری طرف سے مقرر تھے ، بھیج دینا چاہئے تھا۔محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہونے سے ان کو نظام میں کوئی خاص حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔اس معاملہ میں اگر ان پر بدظنی کی گئی ہے تو گو وہ غلط ہومگر اس کی ذمہ واری ایک حد تک ان پر بھی ہے۔یہ بات میں نے اس لئے وضاحت سے کہہ دی ہے تا کہ آئندہ وہ خود بھی اور دوسرے لوگ بھی اس بات کا خاص خیال رکھیں۔پڑول کا ٹھیکہ پھر ایک اور شکایت یہ ہے کہ ڈاکٹر احسان علی کو الیکشن کے ایام میں پٹرول کا ٹھیکہ سستے داموں دے دیا گیا۔بعض احمدی مثلاً میاں محمد اسحق سیالکوٹی سستے داموں پر ٹھیکہ لیتے تھے انہیں نہیں دیا گیا۔اسی طرح بٹالہ سے سستے داموں پٹرول ملتا تھا، وہاں سے نہیں لیا گیا۔اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ پٹرول کے سودا کرنے کے ذمہ وار نظارت کی طرف سے بظاہر حالات نیر صاحب تھے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ دراصل میں نے ٹھیکہ دیا تھا اور نیر صاحب کو بطور آڑ اور پردہ کے استعمال کیا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ الیکشن کے