انوارالعلوم (جلد 14) — Page 423
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ایک نے مقدمہ کرنے میں کچھ تر 3 دکا اظہار کیا تھا تو حضور نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔ان دونوں مقدمات میں سلسلہ کی طرف سے وکلاء پیش ہوتے رہے تھے۔کیونکہ مقدمات شخصی تھے مگر ضرورت قومی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اُسوہ ہمارے لئے جمع راہ ہے۔مالی اور سفارشی امداد ایک بات میاں فخر الدین صاحب نے دیکھی ہے کہ :۔ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان ( ڈاکٹر احسان علی) کی مالی اور سفارشی امداد بھی حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے ذریعہ ہوئی یعنی اخراجات مقدمہ کیلئے روپیہ قرض دیا گیا۔“ (حضور کے دریافت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی حلفیہ شہادت فرمانے پر حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے حلفاً بیان کیا کہ میں نے مقدمہ کیلئے احسان علی کو کوئی روپیہ نہیں دیا۔بعض لوگ مجھ سے قرض لے لیا کرتے ہیں، مصری صاحب بھی لیتے رہے ہیں، ڈاکٹر فضل دین صاحب اور ان کی اہلیہ نے بھی لیا ہے اور احسان علی صاحب نے بھی قرض لیا تھا لیکن مقدمہ کیلئے میں نے کوئی روپیہ کسی کو نہیں دیا ) اب اس جواب کو بھی دیکھ لو اور اُن کی عبارت پر بھی غور کرو۔یہ صاحب نہ صرف میاں بشیر احمد صاحب پر ایک جھوٹا الزام لگاتے ہیں بلکہ اس کے بین السطور میں یہ الزام بھی مجھ پر ہے کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ مالی اور سفارشی امداد بھی میاں بشیر احمد صاحب کے ذریعہ ہوئی۔جس کے یہ معنی ہیں کہ میاں بشیر احمد صاحب کو میں نے ذریعہ بنایا تھا اصل میں یہ کام بھی میں نے کیا تھا گویاوہ نہ صرف مجرم کے امدادی تھے بلکہ اس فریب میں میرے آلہ کار تھے۔لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔پھر ایک اور بات لکھی ہے کہ عبد المنان کی ضمانت کیلئے حضرت میاں صاحب نے ہی دفتر سکول میں چٹھی بھیج کر منظور علی شاہ کو رخصت دی اور گورداسپور بھیجا۔“ اس کے متعلق ہیڈ ماسٹر مولوی مولوی محمد دین صاحب کا حلفیہ بیان محمد دین صاحب کا حلفی بیان ہوا کہ حضرت میاں صاحب کا رقعہ مجھے ملا تھا جس میں صرف یہ تھا کہ سید منظور علی شاہ صاحب کو رخصت دی جائے مگر اس میں ضمانت وغیرہ کا ذکر نہ تھا۔)