انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 422

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ تعریف تقوی کے نیچے آتا ہے کہ کچھ کر وتقوی وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ایک اور غلط بیانی ایک اور غلط بیانی اس شخص نے یہ کی ہے کہ لکھا ہے۔دوسرے روز احسان علی وغیرہ سارے جتن کر کے عبدالمنان کو پولیس میں دینے پر مجبور ہوئے حالانکہ پولیس میں اُسے میں نے بھجوایا تھا۔یہ لوگ اُسے پکڑنے پر ہی قادر نہ تھے پولیس میں دینا تو الگ بات ہے کیونکہ اس کے پکڑے جانے اور خود بیان دینے تک اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا۔پھر ایک اور بات دیکھی ہے کہ احسان علی جیسے رُسوائے عالم کے خلاف ڈاکٹر اسماعیل کے کسی کمیشن میں بطور ڈیفنس چند ایک واقعات پر مبنی الزامات کے لکھ دینے پر سینکڑوں روپیہ نظارت کی طرف سے اس لئے خرچ کر دیا گیا کہ احسان علی کی بریت ثابت ہو۔حالانکہ یہ بات بھی سراسر غلط ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اسماعیل نے جو پہلے جماعت سے خارج تھے مگر اب انہیں معافی حاصل ہو چکی ہے ان کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ حکام کے پاس جا کر سلسلہ کے خلاف جھوٹی رپورٹیں کرتے ہیں۔چونکہ ہم اسے پسند نہیں کرتے کہ ہر شخص جاکر پولیس والوں کے پاس بیٹھے کیونکہ اسطرح انہیں اس کے رسوخ سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس سے جماعت کو روکا ہوا ہے کہ صرف ضرورتا جاؤ بغیر ضرورت کے نہ جاؤ۔امور عامہ نے ڈاکٹر اسمعیل سے جواب طلب کیا اور انہوں نے الزامات کا انکار کرتے ہوئے بعض اطلاع کنندوں پر اُلٹے الزام لگائے ، ان میں سے ایک ڈاکٹر احسان علی بھی تھے۔چونکہ ہمیں یقینی ثبوت مل گیا تھا کہ ڈاکٹر اسمعیل سلسلہ کے خلاف غلط سلط رپورٹیں کرتے ہیں اور بعد میں انہوں نے تحریراً اس امر کا اقرار بھی کر لیا اس لئے سلسلہ کو نقصان سے بچانے کے لئے محکمہ نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر احسان علی صاحب کو ان پر ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کی اجازت دے اور امداد کا وعدہ کرے۔اور چونکہ یہ سلسلہ کی عزت کا سوال تھا نہ که احسان علی صاحب کی عزت کا سوال۔میرے علم میں یہ بات ہے کہ ان کی امداد کی گئی بلکہ اگر ڈاکٹر اسمعیل بعد میں اقرار نہ کر لیتے اور معافی نہ مانگ لیتے تو غالبا بعض دوسرے احمدی بھی ان پر اُس ہتک کے بدلہ میں مقدمہ کرتے جو ان دوسرے احمدیوں کی انہوں نے اپنے بیان میں کی تھی۔پس اگر اس کے خلاف مقدمہ دائر کرانا نا جائز ہے تو یقیناً وہ مقدمہ بھی جائز نہیں ہوسکتا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم اور شیخ یعقوب علی صاحب سے مولوی کرم دین بھیں والے کے خلاف کرایا تھا۔اُس وقت تو جب ان دو میں سے