انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 415

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اُس نے جواب دیا کہ ضروری نہیں کہ شیخ بشیر احمد صاحب کی رائے درست ہو۔میں نے کہا کہ میں نے تو جو قانونی مشورہ ممکن تھا کر لیا ہے اور میں پھر بھی ان سے پوچھوں گا مگر اس عرصہ میں تم اپنے والد سے پوچھ کر ملزم کے سوا جو دوسرے لوگ باتیں کرتے ہوں ان کی رپورٹ اور گواہوں کے نام مجھے بھجوا دو۔میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔اس وقت تک مجھے جو اطلاع ملی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ملزم کے بعض پرشتہ دارلوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ ملزم کا یہ بیان ہے۔میرے پاس اب تک کوئی شکایت ایسی نہیں پہنچی کہ وہ خود اپنی طرف سے کوئی الزام لگاتے ہوں سوا اگر تم کو یا تمہارے والد کو معلوم ہو تو مجھے اطلاع دواور گواہوں کے ناموں سے بھی اطلاع دو تا کہ اس پر کارروائی کی جائے۔اس پر اُس نے پھر کہا کہ آپ کے پاس ایسی رپورٹیں پہنچ چکی ہیں۔یہ پھر اُس کا مجھ پر جُھوٹ کا الزام تھا لیکن چونکہ تکلیف میں انسان کے حواس درست نہیں رہتے اور ہمارے ملک میں بڑے آدمی بھی ایسے فقرے بے سوچے کہ بیٹھتے ہیں اور وہ تو بچہ تھا، میں نے صبر سے کام لیا اور میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ نہیں مجھ تک ایسی کوئی رپورٹ اب تک نہیں پہنچی۔تم اپنے والد سے اس بارہ میں مجھے لکھوا دو تو میں تحقیق کرونگا۔اُسکو تو میں نے رخصت کیا لیکن میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان لوگوں کو سخت صدمہ ہے اور اس صدمہ کی وجہ سے سچ اور جھوٹ اور انصاف اور ظلم میں انہیں کوئی تمیز نہیں رہی، ایسا نہ ہو یہ بچہ ہے یہ میرا پیغام اپنے والد کو نہ دے اور وہ بھی ابتلاء میں پڑیں۔چنانچہ جب دو تین دن تک میرے پاس مصری صاحب کا کوئی پیغام نہ آیا تو میں نے دفتر میں آکر ہدایت کی کہ شیخ صاحب کو خط لکھ دیا جائے کہ اگر کوئی ایسی بات ان تک پہنچی ہے تو اطلاع دیں تا کارروائی کی جائے۔یہ خط دفتر کے رجسٹرات سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ اپریل ۱۹۳۶ء کو ان کے پاس پہنچا اور ان کی رسید دفتر میں موجود ہے لیکن اس خط کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔( اس موقع پر حضور نے مولوی عبد اللہ صاحب اعجاز کی حلفیہ شہادت مولوی عبد اللہ صاحب اعجاز مولوی فاضل ، کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا یا کہ حلفیہ شہادت دیں کہ کیا یہ درست ہے یا نہیں اس پر انہوں نے کھڑے ہو کر حلفاً بیان کیا کہ حضور کے ارشاد پر یہ چٹھی لکھی گئی تھی اور ہمارے رجسٹر میں مصری صاحب کے دستخط موجود ہیں ) اس کے چند دن بعد حافظ بشیر احمد ، مصری صاحب کا بڑا لڑکا پھر مجھ سے ملنے کے لئے آیا