انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 408

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ خان صاحب فرزند علی (حضور نے خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو جو اُس وقت ناظر امور عامہ تھے بلا حب کی حلفیہ شہادت کر اس واقعہ کے متعلق حلفیہ بیان لیا۔اور خان صاحب نے قسم اٹھا کر بیان کیا کہ یہ بات حرف بحرف درست ہے ) خلیفہ صلاح الدین میری بڑی بیوی کے بھائی ہیں اور ڈاکٹر احسان علی کے بہنوئی ہیں۔میری احتیاط کو دیکھو کہ میں نے ان کے ساتھ بھیجنے پر بھی محکمہ پر اعتراض کیا کہ دوسرا آدمی تو دوسرے فریق کے حقوق کی نگرانی کیلئے چاہئے تھا۔آپ نے ایک ہی فریق کے دو آدمی کیوں بھجوائے۔لیکن یہ معترضین کہہ رہے ہیں کہ میں ڈاکٹر احسان علی صاحب کی نا واجب طرف داری کر رہا تھا اور امور عامہ کو آڑ بنا کر ان کا ساتھ دے رہا تھا۔ڈاکٹر احسان علی صاحب کو سخت تنبیہ جب معاملہ یہاں تک پہنچا تو مجھے اطلاع ملی کہ عبدالمنان بعض ایسی باتیں کرتا ہے جس سے اُس کی غرض ڈاکٹر فضل الدین صاحب کے گھر کے بعض افراد کو بعض اخلاقی الزامات کے نیچے لانا ہے۔اس اطلاع کے ساتھ ہی مجھے ڈاکٹر احسان علی صاحب کی چٹھی ملی کہ بعض ایسے امور ظاہر ہوئے ہیں جو صورتِ حالات کو بالکل بدل دیتے ہیں، معاملہ بہت خطرناک ہو گیا ہے اور سخت بدنامی کا موجب ہو گا ، مجھے ملنے کا موقع دیا جائے۔میں نے ان کو ملنے کا موقع دیا اور ان سے وہ کہانی سنی جو انہوں نے کہا کہ عبدالمنان بیان کرتا ہے اور جس سے اس کی غرض ڈاکٹر فضل دین صاحب کے گھر کے بعض افراد پر اخلاقی الزام لگا ناتھی۔میں نے اس کہانی کو سن کر صاف کہہ دیا کہ میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں، ملزم کا پہلا بیان ہمارے پاس موجود ہے، جس میں وہ مال نکالنے کا اقرار کرتا ہے اب کوئی تشریح اس کی ہم سننے کو تیا رنہیں ، خصوصاً جب کہ وہ خلاف شریعت ہو اور اس کیلئے شریعت نے ثبوت کا ایک خاص طریق مقرر کیا ہو جس کی پابندی لازمی ہو۔آپ لوگ کہتے تھے کہ وہ پاگل ہے ، اب آپ کہتے ہیں کہ اس کا پہلا بیان جھوٹا تھا۔جب وہ پاگل ہے، تو اس کے متعلق جھوٹ سچ کا سوال ہی کیونکر پیدا ہوا۔کیا اب اس کا جنون دور ہو گیا ہے؟ اور اگر اس کا پہلا بیان جھوٹا تھا تو ہم کیونکر تسلیم کریں کہ اس کا دوسرا بیان سچا ہے۔جب اس نے پہلے بیان میں اپنے جرم کو تسلیم کر لیا تھا تو اگر وہ اب انکار کرتا اور کوئی دوسرا بیان