انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 400

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ حضرت صاحب کو باتیں پہنچا دی تھیں مگر پھر بھی کوئی ازالہ نہیں ہوا، غلط ہے۔میں نے تو اسی وقت آپ سے کہا تھا کہ میں حضرت صاحب سے نہیں مل سکا اور آپ نے مجھ پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ واہ ! میرا یہ کام بھی نہ کیا۔میاں فخر الدین کی دیانت کا حال پھر انہو پھر انہوں نے بیان میں لکھوایا ہے کہ میں نے کسی سے نہیں کہا کہ میرا اخراج ہونے والا ہے گو آگے یہ فقرہ بڑھا دیا ہے کہ کسی خطبہ کے متعلق نہیں کہا حالانکہ اصل شہادت میں خطبہ کا لفظ نہیں۔خطبہ کی طرف اشارہ تو راوی نے اپنی عقل سے سمجھا ہے۔اصل لفظ گواہ کے اس بارہ میں یہ ہیں فخر الدین صاحب نے اسی اثناء میں کہا۔کہ ”اب ہمارے تھوڑے دن رہ گئے ؟ ئے ہیں ( بیان مولوی عبدالاحد صاحب مولوی فاضل ) اس کی تصدیق مولوی علی محمد صاحب اجمیری مولوی فاضل مبلغ سلسلہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔میں حلفیہ تصدیق کرتا ہوں کہ با بوفخر الدین صاحب نے یہ الفاظ کہے تھے ان الفاظ میں خطبہ کا کوئی ذکر نہیں۔ہاں مولوی عبد الاحد صاحب نے مولوی علی محمد صاحب سے بعد میں کہا کہ ملتانی صاحب کا اشارہ خلیفتہ المسیح کے خطبہ کی طرف معلوم ہوتا ہے مگر سوال یہ نہیں کہ اس فقرہ کا مطلب مولوی عبدالاحد صاحب نے کیا سمجھا۔سوال یہ ہے کہ میاں فخر الدین صاحب نے کیا کہا تھا۔سو انہوں نے اس فقرہ میں کہیں خطبہ کا ذکر نہیں کیا۔صرف یہ کہا ہے کہ اب ہمارے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔خواہ اس سے یہ مراد ہو کہ ہمیں جماعت سے نکال دیا جائے گا یا یہ کہ ہم خود جماعت سے نکل جائیں گے مگر ان کی دیانت یہ ہے کہ جواب دیتے ہوئے وہ ان الفاظ میں انکار کرتے ہیں۔مجھے قطعاً یاد نہیں کہ میں نے یہ فقرہ کسی گفتگو کے دوران میں کہا کہ اب تو ہمارا جلدی ہی اخراج ہونے والا ہے یا اب ہمارے تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اور اس کے الفاظ کا اشارہ حضرت صاحب کے کسی خطبہ کی طرف ہو آخری فقرہ کی زیادتی صاف بتاتی ہے کہ ان کا منشاء یہ تھا کہ بظاہر تو یہ سمجھا جائے کہ میں نے یہ فقرہ کہا ہی نہیں لیکن اگر ثابت ہو جائے تو میں کہہ سکوں کہ میرا مطلب یہ تھا کہ کسی خطبہ کے متعلق ایسا نہیں کہا تھا۔حالانکہ گواہی میں جو اُن کی طرف الفاظ منسوب کئے گئے ہیں ان میں خطبہ کا لفظ ہی نہیں ہے۔خطبہ کی طرف اشارہ تو صرف گواہ کے ذہن میں آیا ہے اور اس نے بعد میں کسی دوست سے اس کا اظہار کیا ہے۔اب میں میاں فخر الدین صاحب کی ایک اپنی تحریر سے ثابت کرتا ہوں کہ انہوں نے غلط انکار کیا ہے۔یہ فقرہ وہ ایک سے