انوارالعلوم (جلد 14) — Page 389
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کہ جا ! جو کرنا ہے کر لے۔حالانکہ فیصلہ ان کا مسلمہ تھا اور روپیہ وہ جو خریداروں سے مہینوں اور سالوں پہلے وصول کر چکے تھے اب اگر یہ شکایت اس یتیم کی درست ہے تو کیا سلسلہ یا حکومت اس پر قسمیں دلانے بیٹھے گی کہ میاں فخر الدین صاحب نے ایسا کیا ہے یا نہیں؟ وہ تو اصل مقدمہ کی طرف توجہ کرے گی۔ایسے امور کو اگر درمیان میں لایا جائے تو سوائے بدظنیوں کے ایک غیر متناہی سلسلہ کے اور کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اور اگر ان لوگوں کا حق ہے کہ وہ اپنے متعلق نیک ظنی کا مطالبہ کریں تو کیا خلیفہ ہی کا ایک وجود ہے جس کے متعلق نیک ظنی نہیں کرنی چاہئے۔اور ہر ہیڈ ماسٹر اور کتب فروش کے متعلق دوسرے شخص کا حق ہے کہ اس کے بارہ میں نیک ظنی سے کام لیا جائے۔کیا کوئی شریف انسان ایسی بات کو تسلیم کر سکتا ہے اور کیا کوئی شریف انسان اس قسم کے خیالات رکھنے والی لعنتی قوم کا خلیفہ بننا پسند کر سکتا ہے کسی ادنیٰ سے ادنی شخص پر بھی الزام لگا کر دیکھو، وہ جوتا لے کر مقابلہ کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ مگر خلفاء پر نہایت بے باکی سے الزام لگا دیئے جاتے ہیں اور پھر کہا یہ جاتا ہے کہ اسلام آزادی سکھاتا ہے مگر اس قسم کے لوگوں سے پوچھو کہ اے کمبختو! کیا اسلام تمہارے متعلق آزادی نہیں سکھاتا ، کیا صرف خلفاء کے متعلق ہی آزادی سکھاتا ہے؟ اِس وقت میں صرف میاں فخر الدین صاحب کے اخراج کے متعلق بیان کروں گا۔دوسرے امور میں اس وقت جانے کو تیار نہیں ہوں وہ اگر موقع ہوا تو پھر ظاہر کر دئیے جائیں گے۔مگر یہ اس وقت بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ وہ خطبہ والا مضمون نہیں جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھایا ہے ، اُس کیلئے ابھی انتظار کریں اور دشمن کی طرف سے جب حملہ ہوگا تو مجھے یقین ہے کہ اس کا اپنا ہتھیار ہی اسے کاٹنے کو کافی ہو گا۔یہ جھگڑا جو شروع ہوا ہے، اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ میں سندھ میں تھا کہ مجھے مولوی تاج الدین صاحب لائل پوری مولوی فاضل کا مندرجہ ذیل خط پہنچا۔مولوی تاج الدین صاحب کا خط بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سَيّدِى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مشاورت سے قبل کا واقعہ ہے کہ خاکسار میاں فخر الدین ملتانی کی دُکان پر گیا ان کے ہاتھ میں اخبار الفضل کا پرچہ تھا، کہنے لگے آپ کا مضمون ابھی پڑھ کر ختم کیا ہے (جس میں پیغامیوں کے اعتراض متعلقہ پہرہ بوقت نماز کا جواب تھا ) میں نے کہا بتائیے جواب بنا ہے یا