انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 382

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ صرف اس وجہ سے شکست کھا گئی کہ اس کے چند سپاہیوں نے کمزوری دکھائی ، وہ اپنی جگہ چھوڑ کر بھاگے جس سے خلا پیدا ہو گیا اور دشمن کو رستہ مل گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی ہی بات ہے کہ اُحد کی جنگ کے موقع پر آپ نے ایک درہ پر دس سپاہی مقرر کئے جو اسلامی فوج کی پشت کی جانب تھا اور آپ نے اُن سے فرمایا کہ تم نے یہاں سے نہیں ہلنا۔باقی فوج خواہ ماری جائے یا جیت جائے حتی کہ دشمن بھاگ بھی جائے ، تو بھی تم یہیں کھڑے رہو۔گویا یہ کام اُس کڑی کے سپر د تھا اور بظاہر یہ کوئی کام نہیں کہ ایک درہ پر کھڑے رہو، خواہ فوج جیت جائے یا ہار جائے ، بظاہر اس بات کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی لیکن بعد کے واقعات سے اس کی اہمیت ظاہر ہو جاتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے تو ان دس سپاہیوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو دشمن کو شکست ہو گئی ہے ، ہمیں بھی اجازت دیں کہ جہاد کے ثواب میں شریک ہوں لیکن افسر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تو یہیں کھڑے رہنے کا ہے۔مگر انہوں نے کہا کہ اتنا غلو نہیں کرنا چاہئے ، کچھ تو اجتہاد سے بھی کام لینا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء تو اس قدر تاکید سے یہ تھا کہ بے احتیاطی نہ کرنا یہ مطلب تھوڑا ہی تھا کہ واقعی اگر فتح حاصل ہو جائے تو بھی یہاں سے حرکت نہ کرنا۔افسر نے جواب دیا کہ مجھے تو اجتہاد کا حق نہیں۔مگر انہوں نے اُس کے مشورہ کو قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ بالکل جاہلانہ مشورہ ہے اور اس میں اطاعت کے لئے ہم تیار نہیں ہیں اور ہم جہاد کے ثواب سے محروم نہیں رہنا چاہتے چنانچہ تین آدمی وہاں رہے اور باقی وہاں سے ہٹ آئے۔اُس وقت تک حضرت خالد بن ولید مسلمان نہ ہوئے تھے ، خالد بہت زیرک نوجوان تھے ، دشمن بھاگ رہا تھا کہ اُن کی نظر درہ پر پڑی اور دیکھا کہ وہ خالی ہے، انہوں نے جھٹ عکرمہ کو اشارہ کیا کہ ابھی شکست کو فتح میں بدلا جا سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے چند سو سپاہی ساتھ لئے اور پیچھے سے آ کر اس درہ پر حملہ کر دیا۔وہاں صرف تین مسلمان تھے باقی جاچکے تھے ، وہ تینوں شہید ہو گئے اور عین اُس وقت جب مسلمان دشمن کو بھگاتے ہوئے لے جا رہے تھے، پیچھے سے حملہ ہوا اور اچانک حملہ کی وجہ سے صحابہ کے پاؤں اکھڑ گئے۔رسول کریم ﷺہ صرف بارہ صحابہ کے ساتھ میدان میں رہ گئے اور جب دشمن نے آپ پر پورے زور کے ساتھ حملہ کیا تو ان بار) میں سے بھی بعض مارے گئے اور بعض دھکیلے جا کر پیچھے ہٹ گئے۔حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ اسی ریلے میں